Latest News

دن کی روشنی میں نکاح و ولیمہ کی تلقین، رات کی شادیوں پر سنجیدہ سوالات، خطیب محمد اقبال کا خطبہ جمعہ، سادگی اور سنت کی طرف واپسی کی اپیل۔

آگرہ: مسجد نہر والی، سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج کے خطبۂ جمعہ میں معاشرے میں بڑھتی ہوئی رات کی شادیوں کے رواج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نکاح اور دعوتِ ولیمہ کو دن کے اجالے میں انجام دینا نہ صرف سنت کے قریب ہے بلکہ معاشرتی، دینی اور صحت کے لحاظ سے بھی زیادہ مفید ہے۔
انہوں نے ماضی کی خوبصورت روایت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ چند دہائیوں پہلے تک نکاح عموماً نمازِ ظہر کے وقت منعقد ہوتا، دن ہی میں رخصتی ہو جاتی اور ولیمہ بھی سادگی کے ساتھ دن میں انجام پاتا تھا۔ اس طرزِ عمل میں نہ صرف آسانی تھی بلکہ نمازوں کی پابندی بھی بہتر انداز میں ہو پاتی تھی۔
خطیب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے سہولت اور سادگی کو چھوڑ کر رات کی تقریبات کو اختیار کر لیا ہے، جہاں نکاح دیر رات تک مؤخر کیا جاتا ہے اور رخصتی فجر کے قریب ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ ہماری دینی تعلیمات سے بھی دوری کی علامت ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی سورۃ النباء (آیات 10-11) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رات کو سکون اور آرام کے لیے اور دن کو محنت و عمل کے لیے بنایا ہے، مگر ہم اس فطری نظام کو نظرانداز کر رہے ہیں۔
محمد اقبال نے مزید کہا کہ رات کی شادیوں میں غیر ضروری اخراجات، اسراف، دیر رات تک جاگنا اور بے وقت کھانا صحت پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں، جبکہ روحانی نقصان اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر انہی اخراجات میں کمی کی جائے تو ایک بڑی رقم بچائی جا سکتی ہے اور سادہ و بابرکت نکاح کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
آخر میں انہوں نے حاضرین سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ اس غلط روایت کو بدلنے کے لیے خود آگے آئیں اور اپنے گھروں میں نکاح و ولیمہ کو دن کے وقت منعقد کرنے کا عزم کریں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی اصلاح ہم سب کی ذمہ داری ہے، اور صحیح قدم ہمیں ہی اٹھانا ہوگا۔ دعا کے ساتھ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام کیا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر