آگرہ؛ سکندرا کی تاریخی مسجد نہر والی میں آج خطبۂ جمعہ کے دوران خطیب محمد اقبال صاحب نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی کھانے کی بربادی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شادی بیاہ کی تقاریب میں رزق کی بے قدری ایک سنگین سماجی اور دینی مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔
انہوں نے ماضی کی سادگی کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پہلے شادیوں میں محدود اور سادہ کھانے ہوتے تھے، لوگ عزت و احترام کے ساتھ آتے، کھانا کھاتے اور دعا دے کر رخصت ہوتے تھے، جبکہ آج کل بے شمار “اسٹالز” کی وجہ سے مہمان الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہر چیز لینے کے چکر میں پلیٹیں بھر لیتے ہیں، جس کا بڑا حصہ ضائع ہو کر کوڑے دان کی نذر ہو جاتا ہے۔
محمد اقبال صاحب نے قرآن کریم کی سورۃ الاعراف (آیت 31) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا”۔ اسی طرح انہوں نے حدیثِ نبوی (ابن ماجہ 3351) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کھانے کو ضائع کرنا اللہ کی نعمت کی ناقدری ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہ قرآن کی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں اور نہ ہی احادیث کی پیروی، اس کے باوجود خود کو سچا مسلمان کہتے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے چند اہم نکات پیش کیے:
شادیوں میں کھانے کی اقسام (اسٹالز) کم کی جائیں
سادگی کو فروغ دیا جائے اور پرانی روایات کو اپنایا جائے
مہمان اپنی ضرورت کے مطابق ہی کھانا لیں
منتظمین اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ کھانا ضائع نہ ہو
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کوڑے دان سے کھانا اٹھا کر خود بھی کھاتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی کھلاتے ہیں۔ اگر ہم رزق کی قدر نہیں کریں گے تو کیا ہمارا رب ہم سے ناراض نہیں ہوگا؟
آخر میں انہوں نے تمام حاضرین سے اپیل کی کہ وہ اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں، کھانے میں سادگی اختیار کریں، بہتر انتظام کریں اور نعمتِ خداوندی کی قدر کرتے ہوئے عزت و احترام کے ساتھ مہمان نوازی کو فروغ دیں، تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو سکے۔

0 Comments