آگرہ: مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبہ جمعہ میں ایک اہم اور فکر انگیز موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے عوام الناس کی رہنمائی کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کل لوگ فیشن کے طور پر گھروں میں اور باہر ہاف پینٹ کا استعمال کر رہے ہیں اور اسے اپنے لیے ایک بہترین “اسٹیٹس” سمجھتے ہیں، حالانکہ ایسا طرزِ عمل دینِ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس طرح کا لباس اختیار کر کے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے روگردانی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہاف پینٹ پہننے سے گھٹنے کھلے رہتے ہیں، جبکہ اسلام میں ستر کو چھپانا فرض قرار دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کون سا دین اور کون سا طریقہ اپنا رہے ہیں؟ دراصل ہم دوسروں کی اندھی تقلید کرتے ہوئے ان کے طریقوں سے متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ ہمیں خود دوسروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بننا چاہیے۔
خطیب محمد اقبال نے قرآنِ کریم کی سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 26 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
"اے آدم کی اولاد! ہم نے تمہارے لیے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجبِ زینت بھی ہے، اور تقویٰ کا لباس اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔"
اسی طرح انہوں نے حدیثِ نبوی ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ران بھی ستر میں داخل ہے (یعنی اسے چھپانا چاہیے)" (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4014)
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم قرآن و حدیث دونوں کی تعلیمات کے خلاف عمل کر رہے ہیں اور اس پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔ یہ کتنی بڑی غفلت اور دھوکہ ہے کہ ایک طرف بیٹی سر پر اسکارف کے ساتھ اسکول جا رہی ہوتی ہے اور والد خود ہاف پینٹ میں ہوتا ہے۔
مزید انہوں نے کہا کہ بعض لوگ نماز جمعہ کے وقت بھی “لوور” پہن کر مسجد میں آ جاتے ہیں، حالانکہ کیا وہ اسی لباس میں کسی دعوت میں شریک ہو سکتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ تو پھر اللہ کے گھر میں حاضری کے وقت ہم سادہ یا نامناسب لباس کیوں اختیار کرتے ہیں؟ اسلام میں نمازِ جمعہ کے لیے بہترین لباس پہن کر آنے کی تاکید کی گئی ہے، مگر ہم اس تعلیم کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
آخر میں خطیب محمد اقبال نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ، شعور اور دین کی درست پیروی کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہم اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھال سکیں۔ آمین یا رب العالمین۔

0 Comments