Latest News

کیا مسلمان اسلامی سماج کا صحیح چہرہ ہیں؟۔ خطیب محمد اقبال کا فکر انگیز خطاب۔

آگرہ: شہر آگرہ کے علاقے سکندرا میں واقع مسجد نہر والی میں آج خطبۂ جمعہ کے دوران خطیب محمد اقبال نے ایک اہم اور فکر انگیز سوال اٹھایا کہ کیا آج کا مسلمان واقعی دینِ اسلام کی درست نمائندگی کر رہا ہے؟
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بے شمار غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، اور اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں یہ مسلمانوں کے اپنے طرزِ عمل کا نتیجہ تو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف معاشرے کا بڑا طبقہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جبکہ دوسری طرف مہنگی شادیوں، ریزورٹس اور فضول رسومات پر بے جا خرچ بھی اسی سماج میں عام ہے۔
خطیب محمد اقبال نے علماء کرام اور سماجی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آگے بڑھ کر فضول خرچی کے خلاف آواز بلند کریں اور سادگی کو فروغ دیں، خصوصاً نکاح جیسی مقدس تقریب کو آسان اور سادہ بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مسلم معاشرے کی تعلیمی اور طبی پسماندگی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ہمارے پاس نہ معیاری ہاسپٹل ہیں اور نہ ہی جدید تعلیمی ادارے، جس کی وجہ سے ہم دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی نوجوان آبادی، جس میں بڑی تعداد مسلم نوجوانوں کی ہے، ان کی تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے منظم منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے حج و عمرہ کے حوالے سے بھی اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ حج زندگی میں ایک بار فرض ہے، اس کے باوجود دیگر سماجی و معاشی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر کے بار بار حج و عمرہ کرنا کس حد تک درست ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر