دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ میں کئی اہم فیصلے، دوروزہ اجلاس میں مولانا نظام الدین خاموش کے انتقال پر تعزیت، تنخواہوں میں اضافے کا امکان۔
دیوبند:(سمیر چودھری)
عظیم علمی و دینی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کے دو روزہ شوریٰ کے اجلاس کا انعقاد آج یہاں ادارہ کے مہمان خانہ میں کیاگیا، حسب سابق میٹنگ میں تعلیمی، تعمیری و انتظامی امور پر غور و خوض ہوا اور ضروری فیصلے لیے گئے، ساتھ ہی اسکیل گریڈ ریوائز کے لئے تشکیل کی گئی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی، جس کی سفارشات پر پير کے روز نئی گریڈ بندی اور تنخواہوں میں اضافہ کا اعلان کیا جاسکتاہے۔
اتوار کی صبح سے منعقد چار نشستوں پر مشتمل شوریٰ کے اس تعلیمی اجلاس میں سب سے پہلے حال میں اچانک رحلت فرما گئے شوریٰ کے رکن مولانا نظام الدین خاموش کے انتقال پر گہرے رنج و الم کا اظہارکرتے ہوئے ان کے لئے مغفرت کی دعاء کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت مسنونہ پیش کی۔ 
میٹنگ میں کووڈ کے بعد تعلیم کے آغاز اور آئندہ سال جدید داخلوں کے فیصلہ پر شوریٰ نے اطمینان اور مسرت کااظہار کیا۔ بعد ازیں تعلیمی رپورٹ ناظم تعلیمات مولانا خورشید گیاوی نے پیش کی، اس کے علاوہ بھی دیگر نظماء نے اپنے شعبوں کی رپورٹیں پیش کیں۔ اس دوران سابقہ شوریٰ میں اساتذہ و کارکنان کی تنخواہوں میں اضافہ اور جدید اسکیل گریڈ کے متعلق تشکیل دو رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی، جس کی بنیاد پر شوریٰ پیر کے روز اہم فیصلہ لے سکتی ہے۔ 
واضح رہے کہ سابق شوریٰ کے اجلاس میں کووڈ بحران کے سبب شوریٰ نے تقررات، استقال اور ترقی کے فیصلوں کو موقوف کردیا تھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ایجنڈے کے باوجود کارگزار مہتمم کے انتخاب کے فیصلہ کو اس شوریٰ تک کے لئے ملتویٰ کردیا تھا، اسلئے قوی امکان ہے کہ شوریٰ ادارہ کے کارگزار مہتمم کے انتخاب کرسکتی ہے، حالانکہ کارگزار مہتمم کے لئے مولانا نظام الدین خاموش کا نام سب سے آگے تھا، جن کا حال میں انتقال ہوگیاہے، اب دیکھنے والی بات یہی ہوگی کہ شوریٰ کس کے نام پر مہر لگاتی ہے یا پھر ایک مرتبہ پھر اس عہدہ کے متعلق فیصلہ کو ملتوی کیا جائیگا۔ وہیں تنخواہوں میں اضافہ کی امیدرکھنے والے کارکنان کو شوریٰ کے اجلاس میں بڑی خوشخبری مل سکتی ہے۔ اجلاس میں دارالعلوم کے تعمیری و انتظامی امور پر بھی غور و خوض ہوا اور ضروری فیصلے لیے گئے۔پیر کی صبح آخری نشست میں شوریٰ کئی اہم فیصلوں پر مہر لگائے گی۔
اجلاس میں مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، صد رالمدرسین مولانا سید ارشد مدنی، رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل، رکن اسمبلی مولانا محمد اسماعیل مالیگاوں، حکیم کلیم اللہ علی گڑھی، مولانا عبد العلیم فاروقی، مولانا رحمت اللہ کشمیری، مولانا انوارالرحمن بجنوری، سید انظر حسین میاں دیوبندی، مولانا محمود راجستھانی، مولانا عاقل سہارنپوری، مولانا محمد عاقل قاسمی گڑھی دولت، مولانا سید حبیب باندوی، مفتی شفیق بنگلوری، مولانا عبدالصمد نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ مولانا سید رابع حسنی ندوی، مولانا غلام محمد وستانوی مفتی احمد خانپوری، مولانا اشتیاق مظفرپوری اور مولانا ملک ابراہیم نے اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ہیں۔

DT Network