جوش و خروش سے منائی گئی عید الفطر، عیدگاہ سمیت دیوبند کی بڑی مساجد میں نماز کی ادائیگی، گلے مل کر ایک دوسرے کودی مبارکباد۔
 دیوبند: شہر میں عیدالفطر کا تہوار جوش و خروش سے منایا گیا۔ کورونا کے باعث دو سال بعد عیدگاہ کے ساتھ شہر کی تمام بڑی مساجد میں عید کی نماز پوری گنجائش کے ساتھ ادا کی گئی۔ اس دوران علمائے کرام نے باہمی ہم آہنگی اور ملکی ترقی کے لیے دعائیں مانگیں۔ شہر کی مساجد میں صبح سے ہی نماز عید کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
نماز کے بعد لوگ قبرستان پہنچے اور اپنے بزرگوں کے لئے ایصال ثواب کیا۔ اس کے بعد مٹھائی اور شیرکھا کر ایک دوسرے کو مبارکباد دیں۔
عیدگاہ میں دارالعلوم وقف کے استاد مفتی عارف قاسمی، مرکزی جامع مسجد میں قاری واصف عثمانی اور دارالعلوم کی مسجد رشید میں قاری عفان منصورپوری کے علاوہ دیگر مساجد میں پیش اماموں نے نماز عید ادا کرائی۔ اپنے خطاب میں مفتی عارف قاسمی نے عیدگاہ میں موجود لوگوں کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عید کا پیغام انسانیت کی بہتری کے لیے ہے۔ عید انسانوں سے محبت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ نماز کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی۔
 کووڈ وبا کی وجہ سے دو سال بعد عیدگاہ میں نماز ادا کی گئی، عید الفطر کی نماز کے لیے شہر اور دیہی علاقوں کے لوگوں میں کافی جوش و خروش دیکھا گیا، حالانکہ انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق لوگوں نے نماز عیدگاہ اور مساجد کے اندر ہی ادا کی۔
عیدگاہ گراؤنڈ میں اس بار صفائی اور بہترین انتظامات دیکھنے میں آئے، وہی زبردست نظم و ضبط نمازیوں میں بھی دیکھنے کو ملا۔ اس بار عیدگاہ کمیٹی کی جانب سے صفائی وغیرہ کے بہترین انتظامات کیے گئے تھے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے بھی کوئی کوتاہی نہیں چھوڑی گئی۔
عید کے روز بھی عیدگاہ کے گراؤنڈ کے اردگرد سیکیورٹی کے لیے بڑی تعداد میں پولیس کے ساتھ ساتھ فورس اہلکار تعینات کیے گئے تھے جب کہ اعلیٰ حکام بھی مسلسل موجود تھے۔ اس دوران انہوں نے عوام کو عید کی مبارکباد دی۔ عیدگاہ کمیٹی نے انتظامیہ کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر ایس ڈی ایم دیپک کمار، سی او درگا پرساد تیواری، کوتوالی انچارج پربھاکر کینتورا، میونسپل کونسل کے چیئرمین ضیاء الدین انصاری، سابق ایم ایل اے معاویہ علی اور عیدگاہ کمیٹی کے سکریٹری محمد انس صدیقی سمیت دیگر نے بھی عیدگاہ میں لوگوں کو مبارکباد دی۔
سہارنپور: دوسری جانب ملک کے امن و سکون کے لیے ضلع بھر کی عیدگاہوں میں نماز عید ادا کی گئی۔ فرزندانِ توحید نے بارگاہ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر اپنی مغفرت کی دعا کی۔ رمضان کے مقدس مہینے میں روزہ رکھا اور غریبوں کو کھانا کھلایا اور اس کے بعد سلامتی کی دعا کی۔ صبح 6 بجے سے ہی لوگوں کا قافلہ عیدگاہ اور مساجد کی طرف بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔ نئے کپڑے پہن کر لوگ نماز میں شامل ہوئے۔ رنجشیں بھول کر ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ عید کے اس پرمسرت موقع پر لوگوں کے دلوں میں سماجی ہم آہنگی کی جھلک دیکھنے کو ملی۔
نماز کی ادائیگی کے بعد جھولوں اور چاٹ کی دکانوں پر خاص ہجوم تھا۔ خاص کر بچوں نے بہت لطف اٹھایا۔ عید کے موقع پر لوگوں نے اپنے مہمانوں کو شیر سیوائی کھلا کر خوش آمدید کہا۔

سمیر چودھری۔