جمعیة علماءہند کے مجلس منتظمہ کے اجلاس میں جاری کیاگیا اعلامیہ۔ مولانا سلمان بجنوری نے کیا پیش۔
دیوبند: عید گاہ میدان میں  منعقد جمعیة علماءہند کے مجلس منتظمہ کے دو رزہ اجلاس کی آخری نشست میں ملک ملت کے تحفظ اور حالات کے مدنظر اعلامیہ جاری کیاگیا، جس کو دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث اورجمعیة علماءہند کے نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری نے پیش کیا۔
مولانا سلمان بجنوری کے ذریعہ پیش کردہ اعلامیہ میں کہاگیا ہے ، اِس وقت ہمارا ملک، ایک نازک دور سے گذر رہا ہے، ایک طرف کچھ طاقتیں مسلمانوں کو جو ملک کی دوسری بڑی اکثرت ہیں، خوف زدہ یا مایوس کرنے کی کوشش کررہی ہیں، جس کے نتیجے میں کچھ لوگوں میں جذباتیت یا خوف کی نفسیات پیدا ہورہی ہے، دوسری طرف وہی طاقتیں جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعہ برادرانِ وطن کو مسلمانوں سے خوف زدہ کرکے نفرت پیدا کررہی ہیں۔ اِن حالات میں ملت اِسلامیہ کو قرآن وحدیث اور سیرتِ طیبہ کی روشنی میں اپنے لئے وہ راستہ متعین کرنا ضروری ہے، جو مستقبل میں مسلمانوں اور تمام ہندوستانیوں کے لئے امن وسلامتی اور بقائے باہمی کا ذریعہ بنے۔
* ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے ملک کی ایک طویل تاریخ ہے، جس میں ہمارا کردار نہایت روشن ہے، ہمارے آباءواَجداد نے اِس ملک کو جوڑے رکھنے اور اس کی حدود کو وسعت دینے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اُس کے بعد انگریزوں کے تسلط سے ملک کو آزاد کرانے میں بھی ہمارا کردار کسی بھی دوسری قوم سے زیادہ تابناک ہے، اور آزادی کے بعد ہمارے اَکابر کی کوششوں سے ملک کو سیکولر دستور کا تحفہ ملا، جو ابھی تک ملک میں نافذ ہے۔
*.اِس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ملک میں بعض ایسی طاقتیں سر اُٹھارہی ہیں جوملک کو اس شاندار مثالی دستور وآئین سے محروم کرنے کے لئے کوشاں ہیں، وہ نسلی امتیاز میں یقین رکھتی ہیں، ان میں سے کچھ لوگ یہ نعرہ بھی لگاتے رہتے ہیں کہ ”سب کو گھر واپسی کراکے ہندو بنائیں گے“، یا ”ہندوستان کے تمام باشندے ہندو ہیں“۔ اور یہ بھی ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ ان کو کسی نہ کسی درجہ میں حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہے؛ لیکن اِن تمام باتوں کے باوجو کوئی صاحب عقل وہوش اِس بات کو کیسے ممکن سمجھ سکتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اُن کے دین واِیمان سے محروم کرنے یا صفحہ ہستی سے مٹانے میں پوری طرح کامیاب ہوجائیں؛ کیوںکہ اِس ملک کا بنیادی مزاج کثرت میں وحدت ہے، اور یہاں کے باشندوں کی اکثریت فسطائی طاقتوں کی ہم نوا نہیں ہے۔
* اگر خدانخواستہ ہم کسی اشتعال یا مایوسی کا شکار ہوجائیں اور صبر واستقامت کے راستے کو جھوڑکر، کسی غلط ردعمل کی طرف جائیںگے تو اُس سے فرقہ پرستوں کے مقاصد پورے ہوںگے۔ اور اگر ہم نے نفرت کا جواب محبت سے دیا اور اپنے اسلامی کردار کو زندہ رکھا تو بہت جلد نفرت کی آگ بجھ جائے گی، اور فسطائی طاقتیں ناکام ہوجائیںگی، اِن شاءاللہ تعالیٰ۔
* اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم بزدلی یا پست ہمتی کا مظاہرہ کریں اور اپنی جان ومال، عزت وآبرو اور اہل وعیال کی حفاظت اور دفاع کے اپنے آئینی حق کا استعمال نہ کریں۔ یاد رکھیں کہ صبر واستقامت کا مطلب بزدلی نہیں ہے؛ بلکہ صحیح وقت پر صحیح اِقدام ہے۔
* اِس لئے تمام مسلمانوں کو خوف، مایوسی اور جذباتیت سے دور رہ کر اپنے مستقبل کی تعمیر کے کام میں لگ جانا چاہئے، اپنے عقائد واَعمال کو درست کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کی فکر کرنی چاہئے، اور اپنے ملک کی ترقی میں اپنا کردار اَدا کرنا چاہئے۔

سمیر چودھری۔