شیخ الحدیث مفتی شوکت گورکھپوری قاسمی کا اچانک انتقال، علمی حلقوں کی فضا مغموم۔
دیوبند: (سمیرچودھری)
جامعة القدسیات دیوبند کے شیخ الحدیث اور مشہور عالم دین مولانا مفتی محمد شوکت گورکھپوری کا اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کے سبب تقریباً 70 سال کی عمر میں انتقال ہوگیاہے۔ ان کے انتقال کی خبر سے علمی حلقوں کی فضا مغموم ہوگئی۔ 
موصولہ تفصیلات کے مطابق مفتی شوکت گورکھپوری گزشتہ روز مظفرنگر کے موضع ٹنڈھیڑہ میں واقع مدرسہ میں پروگرام میں شامل ہونے گئے تھے ،جہاں مولانا نے بیان کیا،جس کے بعد اچانک انہیں ہارٹ اٹیک آیا، آناً فاناً انہیں مظفرنگر اسپتال کی جانب لے جایاگیا لیکن راستہ میں ہی انہوں نے داعی ¿ اجل کو لبیک کہہ دیا۔ان کے انتقال کی خبرسے علمی حلقوں کی فضا مغموم ہوگئی اور کثیر تعداد میں علماءاور ذمہ داران نے مرحوم کی رہائش گاہ محلہ عبدالحق پہنچ کر تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے ان کے انتقال پر افسوس کااظہار کیا۔ مرحوم گزشتہ سترہ سالوں سے جامعة القدسیات محلہ گوجرواڑہ میں شیخ الحدیث کے طورپر تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ دو لڑکے اور چار لڑکیاں ہیں۔
نماز جنازہ بعد نماز مغرب احاطہ مولسری میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے ادا کرائی، بعد ازیں عابدی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ نماز جنازہ میں قاری محمد عامر عثمانی، مولانا شاہ عالم گورکھپوری، مولانا نسیم بارہ بنکوی، سید ندیم ، ندیم اختر سی اے، مولانا شعیب سمیت بڑی تعداد میں علماءنے شرکت کی ۔بعدازیں جامعة القدسیات میں قرآن خوانی کرکے دعاءایصال ثواب کا اہتمام کیاگیا۔