چھوٹے اور درمیانے اخبارات حکومت کی بے حسی کا شکار، ہندی یوم صحافت کے موقع پر منعقد پروگرام میں صحافیوں کے تحفظ کے لئے قانون بنانے کا مطالبہ۔
دیوبند: (سمیر چودھری)
ہندی یوم صحافت کے موقع پرہفتہ واری اخبار ’خلافت بلٹین‘ کی جانب سے منعقد پروگرام میں مقررین نے ملک بھرمیں صحافیوں پرہورہے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ مقامی صحافیوں کو اعزازات سے نواز کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
ریلوے روڈ پر واقع دون ویلی اسکول میں منعقدہ پروگرام میں گرامین پترکار ایسوسی ایشن کے ضلع صدر آلوک تنیجا نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے اخبارات حکومت کی بے حسی اور تجارتی مسابقت کا شکار ہیں۔ یہی نہیں ملک بھر میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ پریس ایسوسی ایشن دیوبند کے صدر منوج سنگھل اور اتر پردیش ادھیوگ ویاپار منڈل کے ریاستی سکریٹری دیپک راج سنگھل نے زرد صحافت سے گریز کرتے ہوئے جمہوریت کے چوتھے ستون کو مزید مضبوط بنانے کی بات کی۔ 
جامعہ طبیہ دیوبند ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اختر سعیدنے صحافت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صحافت کو سماج کا آئینہ قرار دیا اور کہاکہ ہمیں سچے صحافیوں اور شفاف صحافت کی قدر کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ آج چھوٹے اخبارات اور مقامی اخبار نویسوں کے سامنے بڑے مسائل ہیں ،جن پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے، انہوں کہاکہ سوشل میڈیا کے زمانہ میں ہمیں پرنٹ میڈیا اور سچی صحافت کو زندہ رکھنے کے لئے اپنی جانب سے بھی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے نامساعد حالات میں صحافتی خدمات انجام دینے والوں اور اخبارات نکالنے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔
بی جے پی لیڈر ڈاکٹر سکھ پال سنگھ، سینئر قلمکار سید وجاہت شاہ نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اخلاقی قدروں میں زبردست گراوٹ آئی ہے جس کا اثر ہر شعبہ میں نظر آرہا ہے۔ ایسے میں معاشرے میں اچھے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ پروگرام کی صدارت سینئر صحافی اشوک گپتا نے کی اور نظامت پورن چند شاستری نے کی۔ پروگرام میں مقامی صحافیوں کو پروگرام کنوینر اور خلاف بلیٹین کے مدیر اوبیر سنگھ کی جانب سے اعزازات سے نوازاگیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر شمیم دیوبندی، ڈاکٹر صادق علی، چودھری اومپال سنگھ، راجکمار جاٹو، ممتازاحمد، انکت جین، مہتاب آزاد وغیرہ موجودرہے۔