ولی کامل حضرت مکرم حسین صاحب سنسارپوری اب ہمارے درمیان نہیں رہے ۔ اللہ حضرت کے درجات کو بلند فرمائے۔
سہارنپور:  شیخ ومرشد عارف باللہ حضرت مولاناحکیم سیدمکرم حسین کاظمی سنسارپوری خلیفۀ ارشد حضرت مولاناشاہ عبدالقادر راۓ پوری قدس سرہ بھی منزل فردوس کو سدھارگۓ ہیں اناللہ واناالیہ راجعون ۔
نمازجنازہ کی حتمی اطلاع بعد میں دی جاۓ گی۔
تمام احباب سے دعاۓ مغفرت اور ایصال ثواب کی درخواست ہے۔
ولی کامل حضرت مکرم حسین صاحب سنسارپوری اب ہمارے درمیان نہیں رہے ۔ اللہ حضرت کے درجات کو بلند فرمائے۔۔
یہ تحریر حضرت کی حیات میں لکھی گئ تھی ۔حضرت نے اس کو خود سنا ہے۔

سلطنت روحانیت کا ستارۂ سحر
حضرت مولانا حکیم سید مکرم حسین صاحب سنسارپوری مدظلہ العالی 
فتح محمد ندوی

میں کیسے بھول جاؤ تیری روشنی کا لمس
تیرے ہی عکس نے مجھے آئینہ کیا ہے

زندگی جتنی شیریں اور پر بہار ہے اتنی ہی تلخ اور دشوار ترین ہے ۔ تاہم کبھی کبھی کچھ لمحات تلخ اور دشوار زندگی کو بھی خو بصورت اور پر کیف بنا دیتے ہیں ۔ میرے لئے خدا کی طرف سے یہ خا ص فضل و احسان تھا کہ مجھے اہل اللہ کی صحبت کا شرف لا شعوری ایام ہی سے عطاء ہو گیا تھا ۔ غا لباً میری عمر اس وقت بارہ تیرہ سال کی رہی ہوگی جب کا ن ولی مرتاض حضرت مولانا سید مکر م حسین صا حب مد ظلہ العالی کی آواز سے شنا سائی حا صل کر چکے تھے تا ہم دید کا با ضاطہ شرف ۲۰۰۰؁ء کے آس پاس ہوا ۔لاریب میری زندگی کے وہ ایام اور لمحات بڑے مبارک اور فرخندہ نصیب ہیںجو مرشد ِ روحانی حضرت مولانا سید مکر م حسین صا حب کی صحبت اور دامن تقدس اور چشم عنایت میں گزرے ہیں۔ میں اس عظیم نعمت کے حصول پر با رگاہ ایزدی میں سجدہ شکر اور اپنی جبین نیاز خم کر تا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے نیک بندوں کی صحبت اور زیارت کا شر ف بخشا ہے اور ان کی صحبتوں سے ہمیشہ فائدہ اٹھانا کا موقع فراہم کیا ہے۔
میری آوارگی بھی اک کرشمہ ہے زمانے میں
ہر اک درویش نے مجھ کو دعائے خیر ہی دی ہے
( جاں نثار اختر )
ان عنبریں نفوس اور پاکیزہ صفات جماعت کی صحبت کتنی اہم اورضروری ہے اور انسانی زندگی پر اس کے کتنے مثبت اور معنی خیز اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔حکیم الامت حضرت تھانوی نوراللہ مرقدہ نے فرمایا کہ اہل اللہ کے خاندان میں سے ہونا ایک نعمت ہے جس پر شکر واجب ہے ۔ (تفسیر ماجدی سورہ مائدہ ) مزید اہل اللہ اور اہل دل کی صحبت کی اس افادیت اور اہمیت کے پیش نظر مشائخ اور نیک لوگوں کا یہ خاص معمول رہا ہے کہ انہوں نے اس عظیم نعمت کے حصول کے لئے اللہ رب العزت کی بارگاہ میںد عاؤں کا اہتمام اور نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس عظیم نعمت کے حو ا لے سے حقیقت اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اس کی طلب کے لئے ہم سب کو دعاؤ ں کا معمول بنا لینا چاہئے ۔
حضرت مولانا سید مکرم حسین سنسار پوری صا حب کی تعلیم و تربیت ان اصحاب فکر و عمل اوراصلاح و ارشاد کے سایہ عاطفت میں ہوئی جو اپنے عہد کے سلطنت روح اور رو حانیت کے روشن ستارے تھے ۔ آپ کے وا لد محترم حضرت مولانا حکیم سید اسحا ق صا حبؒ حضرت مولانا اشرف علی صا حب تھا نوی نوراللہ مر قدہ اور قطب الا رشاد حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر را ئپوریؒ کے خلیفہ اور مجاز تھے اور آپ کے دادا محترم ڈا کٹر سید حسن صا حب دا ر العلوم دیو بند کے اکابر کے صحبت یا فتہ ۔ اسی طرح آپ کے جد امجد حضرت صوفی سید کرم حسین صا حب ؒ
،اور حضرت مولانا حکیم سید فیض الحسن صا حب ؒ امام ربانی مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ کے خلیفہ مجاز تھے۔ ان عصر آفریںشخصیتوں کے خون جگر اور چشمۂ فکر و خیال سے نسلوں کے چراغ روشن ہوئے ،ان کی نور پاش ہدایتوں نے تاریک کے سینے کو تابناک اور منور کیا ۔ بلکہ ان کے لالہ و گل کی مہک سے ایک زمانہ روشن اور مشک بار تھا۔ اس عہد کا یہ علم وعرفاں اور سلوک و احسان کا مہتاب اس گھرانے اور ماحول میں پیدا ہوا اور ان با تو فیق اور با فیض شخصیات کے ہم آغوش رہ کر آپ نے کسب فیض کیا اور انہیں کی نظر عنایت اور دا من شفقت میں آپ کے قلب و جگر کو روشنی عطاء ہوئی ذہن و دماغ کو حرارت اور قلب کی تطہیر اور تنویر ہوئی ۔
آپ کی ابتدائی تعلیم کے مرحلے اپنے اسی قصبہ سنسا رپور کے مشہور دینی مدرسہ ’ ’ فیْض رحمانی‘‘ سے شروع ہوئے ۔ یہاں سے آپ نے حفظ قرآن کریم اور وا لد محترم سے درس نظامی کے مطابق شرح جامی تک تعلیم حا صل کرنے کے بعد عالم اسلام کی شہرت یا فتہ عظیم روحانی اور علمی دانشگا ہ جا معہ مظاہر العلوم سہار ن پور سے ۱۳۶۹؁ھ مطابق ۱۹۴۹؁ ء سے فرا غت حا صل کی ۔
انسان علم و کمال میں کتنی ہی منزلیں طے کر لے بل کہ وفور علم کے مرحلوں سے گزر کر وہ آگے بھی کسی اور منزل کو پار کر جائے ۔ یا وہ علم کے پہاڑ کی صورت میں ڈھل جائے ۔ غر ض علم کے حوالے سے وہ کیسا بھی معر کہ سر کرلے تاہم تعمیر انسا نیت اور تہذیب اخلاق اور قلب کی صحت اور پاگیزگی بغیر کسی اہل دل کی صحبت اور ذکر کے حا صل نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے صر ف علم و کمال کا انقلابی تصور بغیر صحبت کے جلا نہیں پا سکتا ۔جس طرح قطرہ صدف کی گود میں گہر نایاب بنتا ہے اسی طرح قلب و نگاہ کی صحت اور تطہیر کے لئے بل کہ دین کی روح سے مکمل سناشائی بغیر کسی کامل انسان کی تربیت کے حا صل نہیں ہوتی ۔آپ نے اپنے نفس کی اصلاح اور تزکیہ قلب کے لئے اپنے اندر ایک بے چینی محسوس کی ۔ ویسے سوز و مستی اور جذ ب و عشق سے آپ کی دنیا پہلے ہی آباد ہو چکی تھی ۔آپ کا گھر اولیائے کا ملین کا مسکن اور سالکان معرفت کے لئے سکون خاطر اور سد افروزاں مینار تھا ۔ پھر بھی معرفت الٰہی کی پیاس اور دل میں عشق کی شورش اور محبت کا جو شعلہ تھا وہ آپ کو ’’ بزم عرفان و حدت‘‘ خا نقاہ رائپور کھینچ لایا ، جو یائے علم سے دانا ئے را ہ کی طرف یہ آپ کا پہلا سفر تھا ۔یہاں قطب الارشاد حضرت شاہ عبد القادر صا حب ر ائپوریؒ کی صحبت اور تربیت نے بلکہ ان کے روشن دل اور نفس گرم نے حضرت مولانا سید مکرم حسین صا حب کے قلب و جگر پرایسا صور پھو نکا جس کی حرار ت اور گرمی سے آج بھی آپ کا باطن منور ، قلب روشن اور روح کی کلیاں ان کی صحبت کی مہک اور خوشبو سے پوری توا نائی کے ساتھ مہک رہی ہیں ۔ بقول علامہ شبلی :
بوئے گل سے یہ کہتی ہے نسیم سحری
حجرہ غنچہ میں کیا کرتی ہے ؟ آ سیر کو چل
یہاں آپ کے حوالے سے یہ بات بڑی اہمیت کی حا مل ہے کہ آپ جس طرح حضرت شاہ عبد القادر رائپوریؒ کی روحانی کہکشاں کے آبدار اور درخشاں موتی ہیں۔ وہیں آپ کی موجودگی میںہمارے لئے یہ اعزاز اور نیک بختی بھی ہے کہ آپ نے صف اول کے ان مشائخ اور بزرگان دین کی صحبت اور مجلسوں سے براہ راست استفادہ کیا ہے جن کے نقش پا سے تاریخ کا حصہ آج بھی جھلمل اور مہتاب کی طرح اپنی روشنی سے کاغذکے سینے کو جگمگ کئے ہوئے ہے۔ فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ، حضرت علامہ انور شاہ کشمیری ؒ، حضرت حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒحضرت مولانا شاہ عبد الر حیم رائپوری ۔وغیر ہ اپنے عہد کے وہ گو ہر آبدار اور علم و عمل کے وہ روشن
ستا رے ہیںجن کے وجود سے قرن اول کی یادیں زندہ اور تابندہ تھیں ۔ آپ نے اپنے لا شعور ی ایام سے اپنے گھر میں ان کے ورود مسعود سے اپنے مشام جاں کو معطر اور ان کے ا حوال و آثار اور سیرت و کر دار کے ذکر کی خوشبو سے اپنی سماعتوں کو محظوظ کیا ہے ۔ یہ وہ تمام نا بغہ روز اور قد سی صفات جماعت تھیں جو با لوا سطہ آپ کے آبا و اجداد کی شرف صحبتوں اور توجہ کا مرکز بلکہ آپ کا گھر انہ اس جماعت صا لحین کی فدائی اور جاں نثار تھیں۔لاریب آپ کا بابر کت وجود اور آپ کی ذات ہمارے لئے اس حوالے سے اس عہد میں ان اکابر کے اوصا ف اور پاگیزہ صفات زندگیوں کا حاصل عنوان نمونہ اور نشان امتیاز مجموعہ ہے ۔
آپ نے میخانہ رحیمیہ کی شراب طہور سے اپنے قلب و نگاہ اور فکر و شعور کی صفائی اور صحت کے بعداپنے خاندانی پیسے طب سے وا بستہ ہوگئے ۔ طب کے حوالے سے بڑے بڑے حا ذق ترین اطباء آپ کے خاندان میںپیدا ہوئے ۔ جن کی حذاقت کا ایک زمانہ معترف اور مداح تھا ۔ تاہم طب کے اس معزز پیسے سے آپ کا مقصد اور مشن پیسہ کمانا نہیں تھا بلکہ خدمت کا وہ جذبہ تھا جو آپ کو اپنے خاندان سے وراثت میں عطاء ہوا تھا۔آپ کے مطب پر ہر وقت انسانوں کا ایک ہجوم رہتا تھا ۔آپ کا دست شفاء مریض کی روحانی اور جسمانی تشخیص میں طاق تھا ۔ صرف مریض کے ہاتھ سے تمام ظاہری اور باطنی احوال اور آثار منکشف ہوجاتے۔ کتنے ہی مایوس اور لاعلاج روحانی اور جسمانی مریض آپ کی شفائی انگلیوں سے صحت یاب ہو کر زندگی کی بہاریں لوٹ رہے ہیں۔
مدتوں آپ لوگوں کو اپنے مطب سے جس طرح جسمانی امراض کی دوا دیتے رہے وہیں روح کے مریضوں کو دوائے دل بھی بانٹتے رہے۔ افسردہ دلوں میں عشق الٰہی اور محبت کی گرمی پیدا کرتے رہے ۔ عشق کے اس میخا نہ سے کتنے ہی مضمحل قویٰ اور زنگ آلود دلوں میں حرکت و نشاط لوٹ آئی ۔ دین کی روح سے شنا سائی حاصل ہوئی ۔آداب طریقت معلوم ہوئے ۔ عشق حقیقی، جذب و سرمستی سوز و تپش کی وہ بیش بہادولت عطا ء ہوئی جو انسان کو صفت احسان کے بلند مرتبہ پہنچا دیتی ہے۔ بہ قول جگر :
آج تو کر دیا ساقی نے مجھ مست الست
ڈال کر خاص نگاہیں میرے پیمانہ میں
اپنے مطب ہی سے آپ نے اصلاح اور تزکیہ قلوب بلکہ اپنے مرشد کی تعلیمات کو عام کر نے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ حصول معرفت کے ذوق شناسوں کو قلبی سکون آپ کی بزم سے حاصل ہونے لگاایک روز اچانک آپ کو خواب میں اپنے مرشد کی زیارت ہوئی جس میں خانقاہ کے قیام کی نوید اور بشارت کی طرف اشارہ تھادو مرتبہ آپ کو خواب میں اپنے شیخ کی طرف سے یہ مسرت آگیں مژدہ سنایا گیا ۔ اس مسلسل خوش خبری کے بعد آپ نے باضابطہ خانقاہ ’’قادریہ شفائیہ ‘‘ کے قیام کو عمل میں لاکر بزم ’’ صہبائے وحدت ‘‘ سجائی۔اب اس بحر معرفت میںشناوری اور غواصی کرنے والوں کی تعداد میںہر دن اضا فہ ہوتا گیا بلکہ اس رجوع عام کو دیکھ کر ایک صا حب دل بزرگ حضرت حاجی اشرف علی صاحب ؒ نے حضرت مولا نا مکرم حسین صاحب سے فرمایا کہ آپ کے یہاں خلق خدا کا یہ ہجوم دیکھ کر حضرت شاہ عبد الرحیم رائپوری
ؒکے زمانے کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ۔
با طن کی صفائی اور تزکیہ موجب نجات ہے ۔ اس کی کدورت اور گندگی موجب ہلاکت اور بربادی کا سودا ہے ۔ آپ کے یہاں سب سے پہلے سالک کی اصلاح اور تزکیہ کا آغاز نفس کی اصلاح سے شروع ہو تا ہے ۔ کیوں کہ نفس ہی انسانی برائیوں محور اور مرکز بلکہ سر چشمہ ہے ۔ انسان کی تمام فلاح اور صلاح کا مدار اور نقطہ آغاز نفس کشی اور نفس کی مخالفت میں مضمر ہے ۔کیوں کہ نفس ہی سے تمام برائیاں جنم لیتی ہیں اور نفس ہی کی چاہت اور اسی کی خواہش کی تکمیل کی خاطر انسان گناہوں کی دلدل میں پھنس تا ہے اور بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کر تاہے ۔ جھوٹ بولنا ، حرام خوری کرنا زنا اور قتل و غارت گیری کرنا، بدنظری اور بد نگاہی کا مرتکب ہونا ظلم اور فساد پھیلانا وغیرہ اور اسی طرح دوسری برائیاں اور جرائم نفس کی پیروی کی خاطر انجام دیتا ہے۔ غرض انسان کے اندر بدی کا محور نفس ہی ہے ۔اگر انسان کو نفس کی معرفت ہوجائے اور ساتھ ہی جسمانی اور نفسانی خواہشات کا زور کم ہوجائے تو روح اور روحانیت کے اندر قوت پرواز اور نورانیت پیدا ہوجاتی ہے ۔بہرحال ہوائے نفس سے بیزاری سالک کی اصلاح میں پہلا قدم ہے حضرت کے یہاں اسی سے سلوک کی منزلیں طے کرائی جاتی ہیں ۔
آپ کا سراپا یہ ہے کہ آپ مکمل مر دان حسن کا شاہکار ، شیریں لب و لہجہ ، محبت و اخوت سے لبریز آپ کا طرز تکلم ، دل کو موم بنادینے والی آپ کی چشم عنایت ، حد درجہ تواضع اور انکساری ۔ آسمان کی بلندیوں پر رہتے ہوئے زمین سے اپنا رشتہ باقی رکھنا اور اپنے آپ کو فنا کردینا آپ کی باغ وبہار شخصیت کی شناخت ہے۔ غرض جمال ہی جمال ،داعیانہ مزاج اور محبت و شفقت کے عناصر سے بنا ہوا آپ کا یہ ہیولیٰ سیرت رسول کے عکس کا عنوان اور اعلان ہے۔میں نے کبھی آپ کو کسی سے سخت لہجے میں بات کر تے ہوئے نہیں دیکھا ہر منفی بات کو اپنے حسن عمل سے نظر اندا ز کرنا اور اس منفی خیال کو مثبت پیکر میں ڈھالنا آپ کی زندگی کا خوبصورت نشان اور شان امتیاز ہے ۔ میں نے خود ان لوگوں پر حضرت کی دامن شفقت کو وسیع ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔ جو نہ صرف آپ کے بد خواہ تھے بلکہ انہوں نے حضرت کو ہر طرح سے تکلیف پہچانے میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔
اب آپ عمر کی نو دہائیاں مکمل کر چکے ہیں۔سینے میں اب عشق الٰہی کی گرمی ، نور اور تپش میں ہر دن اضافہ ہے۔اب معیت الہی کا استحضار بڑھ رہا ہے۔ دل پر فکر آخرت کا غلبہ ہے۔ عشق و محبت کی جو شراب آپ نے زندگی بھر پی ہے اس کا لطف بھی دل کے اندر سوز پیدا کر ہاہے ، پھر وہی سوز اور عشق الہٰی آپ کو بے چین اور مست رکھتا ہے ۔ آپ دنیا سے منہ پھیر کر اللہ تعالیٰ کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو نا چا ہتے ہیں ۔ اب کسی چیز میں لطف نہیں آتا سوائے اپنے رب کی تنہائی میں یاد اور اس کے ذکر سے۔ اب اپنے رب سے راز و نیاز کے لئے تنہائی اور تخلیہ ہی آپ کے لئے راحت و سکون کا سامان ہے۔ بلکہ اب آ پ کے دل میں محبت اور عشق کی ایسی آگ لگ چکی ہے کہ دل دنیا سے بیزار ہوگیا ۔
کہ مجھ کو اپنا ہوش اور نہ دنیا کا ہوش ہے
بیٹھا ہوں مست ہو کے تمہارے جمال میں
آپ بزم رحیمیہ خانقاہ رائپور کی شبستان نور کی آخری کرن ہیں ۔علم وعمل کی جامعیت کے ساتھ آپ نے اپنے شیخ حضرت شاہ عبد القادر رائپور ی کی اداؤں کو اپنے اندر اس طرح جذب کر لیا ہے کہ آپ اس عہد میں اپنے شیخ کی روحانی کہکشا ں اور ان کے گلشن کے مہکتے پھول اور چمک دار موتی بھی ہیں ۔ اور ساتھ ہی ان کی زندہ یاد گار نمونہ اور نشان بھی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ حضرت کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر صحت و عافیت کے ساتھ قا ئم رکھے۔ آمین