دیوبند کی معروف سماجی و دینی شخصیت حاجی ممشاداحمد کا اچانک انتقال، نامور شخصیات نے کیا اظہارِ غم۔
دیوبند: (سمیر چودھری)
جامع مسجد گوجرواڑہ کے متولی اور جمعیة علماءیونٹ دیوبند کے سرگرم رکن و حج ٹرینر حاجی چودھری ممشاد احمد کا اچانک انتقال ہوگیاہے، ان کے انتقال کی خبر سے شہر میں غم کی لہر دوڑگئی اور کثیر تعداد میں علماء،ذمہ شہر و سیاسی سماجی شخصیات کا ان کی رہائش گاہ پر تانتا لگ۔ اہل خانہ کے مطابق حاجی ممشاد کو گزشتہ روز ہارٹ اٹیک آیا تھا، جنہیں ہریانہ کے کرنال میں واقع ہسپتال میں داخل کرایا کیاتھا، جہاں نماز عصر سے قبل اچانک انکاانتقال ہوگیا، وہ تقریباً 58 سال کے تھے۔مرحوم نہایت نیک،ملنسار،خوش اخلاق اور صوم و صلوٰة کے پابندشخص تھے۔ان کی سماجی اور دینی خدمات قابل تعریف تھی۔ پسماندگان میںبیوہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاںہیں۔ان کے انتقال پر جمعیة علماءکے صدر مولانا سید محمود مدنی، مفتی سید عفان منصورپوری، مولانا سلمان بجنوری، رکن شوریٰ مولانا محمد عاقل قاسمی، جمعیة علماءکے ضلع صدر مولانا ظہور احمد قاسمی، ضلع جنرل سکریٹری سید ذہین احمد، آل انڈیا ملی کونسل کے ضلع صدر مولانا ڈاکٹر عبد المالک مغیثی، مولانا توقیر احمد قاسمی کاندھلوی استاذ و نگراں شعبہ انگریزی دارالعلوم دیوبند، امام و خطیب قاری زبیر احمد قاسمی، مفتی عبد الخالق قاسمی ماجروی، چودھری صادق، مسلم فنڈ دیوبند کے منیجر سہیل صدیقی، سابق چیئرمین انعام قریشی، مدنی ٹور اینڈ ٹریولز کے ڈائریکٹر عمیر احمد عثمانی، سابق رکن اسمبلی معاویہ علی، چیئرمین ضیاءالدین انصاری، ڈاکٹر جمیل احمد، سمیر چودھری، فہیم اختر صدیقی دلشاد نیتاوغیرہ نے گہرے رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ حاجی ممشاد احمد بہترین شخصیت کے مالک اور علماءو بزرگان دین سے نہایت قریبی تعلق رکھتے تھے، مرحوم سماجی اور دینی کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ ان کے انتقال پر جامع مسجد کے امام و خطیب قاری زبیر احمد قاسمی نے نہایت افسوس کااظہار کرتے ہوئے محلہ اور شہر کے ساتھ ساتھ اپنا ذاتی خسارہ قراردیا۔