تنظیم دعوة الحق کے زیر اہتمام  ”تذکرہ شہیدان وطن“ کے عنوان سےاجلاس کا انعقاد، شہیدان ِ وطن کی قربانیوں کو یاد رکھنے کی اپنی ذمہ داری سے غفلت نہ برتیں۔
دیوبند:(سمیر چودھری)
تنظیم دعوة الحق کے زیر اہتمام جامعہ ہدی للعالمین میں آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر اجلاس ِ بعنوان ”تذکرہ شہیدان ِ وطن“ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت تنظیم کے صدر قاری سعید احمد تڑفوی نے کی اور نظامت کے فرائض تنظیم کے جنرل سکریٹری مولانا محمد اطہر حقانی ندوی نے انجام دئےے۔اجلاس میں ضلع کے تمام ذمہ داران مدارس سماجی و سیاسی سرکردہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جامعہ مظاہر علوم کے امین عام مولانا سید محمد شاہد الحسنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی میں ملک کے تمام طبقات کے لوگوں نے قربانیاں پیش کیں اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے ملک کو آزاد کرایا۔ دارالعلوم دیوبند کے استاذِ حدیث اور کل ہند رابطہ مدارس کے ناظم مولانا شوکت علی بستوی نے آزادی ہند کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شہیدان ِ وطن کی قربانیوں کو یاد رکھنے کی اپنی ذمہ داری سے غفلت برتی ہے۔ انہوں نے شہیدان ِ وطن کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ کرتے ہوئے آزادی کے لئے چلائی جانے والی تحریکات کا مکمل تعارف بھی پیش کیا۔ ممبرپارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن قریشی نے کہا کہ جنگ ِ آزادی میں مدارس نے تاریخی کردار ادا کیا ہے ۔مدارس نے انگریزوں کے خلاف جو تحریکات چلائیں اس نے انگریزی حکومت کی جڑیں ہلاکر رکھ دیں، سہارنپور دیہات سے ممبر اسمبلی آشو ملک نے کہا کہ ملک میں بسنے والے تمام لوگوں نے مل جل کر ملک کو آزاد کرایا ہے، اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم مل جل کر ہی ملک کی حفاظت کریں گے اور اس کو ترقیوں کی بلندیوں تک پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے، انہوں نے ہر گھر ترنگا مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنی طرف سے بھر پور کردار کی یقین دہانی کرائی، بہٹ اسمبلی رکن عمر علی خان تنظیم دعوة الحق کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا، سابق ممبر اسمبلی سنجے گرگ نے آزادی کیلئے علمائے کرام کی قربانیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ درختوں پر لٹکی ہوئی علماءکرام کی ہزاروں لاشوں اور خون کی لڈیوں نے ملک کو آزاد کرایا ہے، اس موقع پر شہیدان ِ وطن کو خراج ِ عقیدت پیش کیا گیا اور مجموعی طور پر یہ بات کہی گئی کہ ملک ان شہیدان ِ وطن کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا، آل انڈیا ملی کونسل کے ضلع صدر مولانا ڈاکٹر عبد المالک مغیثی نے کہا کہ جنگ آزادی میں علماءاور مدارس کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ہمارے علماءنے ملک کو آزاد کرانے میں بڑی بڑی قربانیاں پیش کی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ہمیں اپنا احتساب بھی کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ اجلاس سے مولانا انعام اللہ قاسمی ،مفتی تاج الدین، ڈاکٹر شاکر فرخ ازہری ،مولانا عزیز اللہ ندوی، مولانا عبدالملک مغیثی ،مولانا حبیب اللہ قاسمی نے بھی خطاب کیا، شرکت کرنے والوں میں مولانا طاہر مظاہری، مولانا ظہور احمد قاسمی ،صوفی معین الدین، مولانا حنیف ندوی، مولانا عرفان قاسمی، مولانا شاہد مظاہری، مولانا ساجد کاشفی، قاری محمد عارف مظاہری، مولانا فضیل مظاہری، مولانا اُسامہ کریمی، مولانا اسعد حقانی، قاری ہاروں کاشفی، حافظ عبدالرحمن عربی، مفتی مطیع الرحمن مظاہری، مولانا شمشاد مظاہری، مولانا عبدالغفار ،قاری یوشف کاشفی، قاری شبیر،قاری سالم کاشفی، مولانا راشد ملک قاسمی، مولانا عارف قاسمی مولانا ناظم ندوی،قاری محمد شمعون کاشفی، مفتی عطاءالرحمن جمیل، مولانا اشتیاق قاسمی، مولانا شمشاد قاسمی، قاری مستفیض کاشفی، مولانا خالد ندوی،قاری سعید ایم۔ اے،قاری قربان کاشفی مفتی ناصر الدین مظاہری، مولانا عبدالخالق ندوی لنڈھورہ، حافظ ساجد کاشفی، قاری افتخار وغیرہ موجود رہے۔