جنگلوں میں سکونت اختیار کرنے والے مسلم طبقہ کو جنگل چھوڑنے کے لئے دیئے گئے نوٹس، متاثرین نے ممبر پارلیمنٹ اور اسمبلی رکن کو سونپا میمورنڈم۔
دیوبند: (سمیر چودھری)
جنگلوں میں رہنے والے گوجروں کو جنگل خالی کرنے کے نوٹس دیئے جانے سے گوجر پریشان ہیں ، اسی بات کو لے کر گوجروں نے بادشاہی باغ میں ایک میٹنگ کا انعقاد کرکے اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے ایک میمورنڈم ممبر پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن کو سونپتے ہوئے کہاکہ تقریباً دو ماہ قبل محکمہ جنگلات اور ایس ڈی ایم بہٹ کی جانب سے انہیں جنگل خالی کرنے کے لئے نوٹس جاری کئے گئے ہیں، اب افسران جنگل خالی کرنے کا دباﺅ بنارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ممبر پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن نے کہا کہ بغیر کسی بندوبست کے گوجروں کو نوٹس دیا جانا ان کا استحصال کرنے جیسا ہے۔ اس کے لئے قانونی طریقہ سے لڑائی لڑی جائے گی، جنگل میں بسنے والے گوجروں کا کہنا ہے کہ محکمہ جنگلات کو الگ الگ زون میں پہلے سے ہی فوج کی ٹریننگ فائرنگ ہوتی آئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے فوج کو فائرنگ کے لئے الگ علاقہ دیئے ہوئے ہیں، جب کہ جنگل میں بسنے والے گوجروں کی سہولت کا کوئی نظم نہیں کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں اگر گوجر کے اہل خانہ فائرنگ رینج کے جنگل میں رہتے ہیں تو انہیں جان مال کا خطرہ بنا رہتا ہے۔ تقریباً تین سال قبل حادثہ بھی ہوچکا ہے ، ان کا مطالبہ ہے کہ پہلے ان کے رہنے کا نظم کیا جانا چاہئے ۔ محکمہ جنگلات کے ایس ڈی او آر این کموٹی کا کہنا ہے کہ جنگلوںمیں بسنے والے گوجروں کے اہل خانہ کا پہلے سے ہی اکتوبر سے مارچ تک یہاں رہنے کا پرمٹ ہوتا ہے ، اتنے ہی وقت کا ان سے محکمہ فیس وصول کرتا ہے ، اس کے بعد انہیں اترا کھنڈ اور جموں علاقہ میں جانا ہوتا ہے، وہاں بھی ان کے پرمٹ بنتے ہیں اور آدھار کارڈ بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ نے کئی ماہ قبل 30سال کے لئے فوج کی ٹریننگ فائرنگ کے لئے اس علاقہ کی نشاندہی کرکے ان کو دیدیا تھا۔ جنگل میں بسنے والے گوجروں کو مارچ کے بعد قانون کے مطابق یہاں سے چلا جانا چاہئے تھا، پہلے سے چلے آرہے نظم کے مطابق ہی ان خاندانوں کو یہاں سے چلے جانے کے لئے کہا جارہا ہے۔