یوم آزادی پر دارالعلوم دیوبند میں کی گئی پرچم کشائی، جمعیت کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے کہا، آج کے حکمرانوں کا ملک کی آزادی میں کوئی حصہ نہیں، ہمارے بزرگوں نے طویل جنگیں لڑیں ہیں۔
دیوبند:  مشہور و معروف اسلامی تعلیمی ادارہ دارالعلوم دیوبند میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کرکے علمائے کرام کی قربانیوں کو یاد کیا گیا اور طلبہ کو ملک کی آزادی کے لیے دی گئی اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کی گئی۔
دارالعلوم دیوبند کے اعظمی منزل گراؤنڈ میں پیر کو صبح 7:30 بجے 75ویں یوم آزادی کے موقع پر مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی اور صدر المدرسین مولانا سید ارشد مدنی نے پرچم کشائی کی۔
اس موقع پر منعقد جشن آزادی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ علمائے دیوبند نے 200 سال تک جنگ آزادی لڑی ہے، لیکن آج ملک میں نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، یہ حقیقت ہے کہ جن کے بزرگوں نے ملک کے لیے جانیں قربان کی ہیں، انہیں ملک دشمن کہا جا رہا ہے، لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں کہ اصل غدار وہ ہیں جو ماحول خراب کر کے ملک میں نفرت پھیلاتے ہیں اور دلوں کو تقسیم کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ مولانا ارشد مدنی نے حکمراں جماعتوں پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ آج اقتدار میں رہنے والوں کا ملک کی آزادی میں ذرہ برابر بھی تعاون نہیں، چند ہزار جھنڈے بانٹنے سے کوئی مجاہد آزادی نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اس ملک سے محبت، بھائی چارے اور اتحاد و سالمیت کو مضبوط کرنے کے لیے کام کیا ہے لیکن آپ نے صرف 10 سال میں اس ملک کو نفرت کی آگ میں جھونک دیا۔
انہوں نے کہا کہ جس وقت کسی میں انگریزوں کے خلاف منہ کھولنے کی ہمت نہیں تھی، اُس وقت علمائے کرام نے اس ملک کی آزادی کا بگل بجا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک شہید ٹیپو سلطان رہے، انگریزوں کو ہندوستان پر اپنا اختیار جمانے کی ہمت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ شاہ عبدالعزیز دہلوی نے سب سے پہلے ملک کی آزادی کے لیے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا۔ انگریزوں نے ان پر مظالم ڈھائے لیکن وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے۔ آزادی کی جنگ دراصل 1831 سے شروع ہوئی تھی، 1857 تک مسلمانوں اور علمائے کرام نے یہ جنگ لڑی ہے لیکن 1857 کی ناکامی کے بعد علمائے کرام نے 1866 میں دارالعلوم دیوبند کے قیام کا فیصلہ کیا اور تمام اہل وطن سے مل کر آزادی کی جنگ لڑنے کی اپیل کی۔ جس کے بعد یہ کارواں بڑھتا گیا اور تمام ہندو، مسلمان اور سکھ مل کر اس ملک کی آزادی کی جدوجہد میں شریک ہوئے۔
لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمان اور مدارس کے طلباء بھی اپنے بزرگوں کی ملک کے لیے دی گئی قربانیوں سے دور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم سمیت تمام مدارس کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ ملک کی آزادی کے لیے دی گئی علمائے کرام کی قربانیوں پر کتابیں تیار کریں اور انہیں مدارس کے نصاب میں شامل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو ہمارے بزرگوں کی قربانیاں یاد نہیں تو نہ کریں، ہم خود اپنی نئی نسلوں کو ان کی قربانیوں سے آگاہ کریں گے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جو اپنے بزرگوں کی قربانیوں اور تاریخ سے واقف نہیں ہوتے ان کا مستقبل روشن نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ 1857 میں انگریزوں نے چند دنوں میں 33 ہزار علمائے کرام کو شہید کر دیا گیا تھا اور دہلی کے آس پاس کوئی درخت ایسا نہیں تھا جس پر مسلمانوں اور علمائے کرام کی گردنیں نہ لٹک رہی ہوں۔ دیوبند کے علاقے کے درجنوں دیہات کو آگ لگا دی گئی، مکانات کو نذر آتش کر دیا گیا، کیونکہ وہ علمائے کرام کے مشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ لیکن یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ آج اسی سماج کے لوگوں کو ملک دشمن کہا جا رہا ہے اور ملک سے بغاوت کہنے والے وہ ہیں جن کا ملک کی آزادی میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ہندوستان کے پہلے شخص تھے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف ایک آزاد حکومت قائم کی، جس وقت کسی کو بولنے کی ہمت نہ تھی، اس وقت شیخ الہند نے ایک آزاد حکومت قائم کی اور انگریزوں کو پیغام دیا کہ جب تک تم ہندوستان نہیں چھوڑو گے ہم سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ملک کی خاطر مالٹا جیل میں رہے اور ملک کی آزادی کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ملک تقسیم ہوا جس کا درد بیان نہیں کیا جا سکتا، تقسیم سے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کو بہت نقصان ہوا، اگر یہ تینوں ساتھ ہوتے تو آج چین اور روس جیسی طاقتیں اس کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ کر سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ نفرت کی سیاست چھوڑ کر ملکی ترقی کی سیاست کی جائے، ایسا نہ ہو کہ کل کو ہمارے ملک کا بھی سری لنکا جیسا حال ہو جائے۔ کیونکہ نفرت کی سیاست ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ اس موقع پر طلباء اور اساتذہ کے ساتھ ادارے کے دیگر عملہ بڑی تعداد موجود رہا۔

سمیر چودھری۔