ماہِ محرم بڑی عظمت اور فضیلت والا مہینہ ہے، یوم عاشورہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ممتاز عالم دین مولاناندیم الواجدی کااظہار خیال۔
دیوبند: (سمیر چودھری)
معروف عالم دین اورماہنامہ ترجمان دیوبند کے مدیر اعلیٰ مولانا ندیم الواجدی نے محرم کے تعلق سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے حضرت حسینؓ کی شہادت کا الم ناک واقعہ محرم الحرام میں پیش آیا، عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس ماہ کی جو کچھ تاریخی اہمیت اور شہرت ہے وہ اسی واقعہ ¿ شہادت کی وجہ سے ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے، یہ محض اتفاق ہے کہ شہادت حسین ؓ کے لےے اللہ رب العزت نے وہی دن منتخب فرمایا جو عاشورہ ¿ محرم کا ہے، یہ مہینہ طلوعِ اسلام سے قبل بھی عظمت اور اہمیت کا حامل سمجھا جاتا تھا، اسلام آیاتو اس نے بھی اس مہینے کے تقدس کو برقرار رکھا ۔انہوں نے کہا کہ اس ماہ کے نفلی روزوں کا بڑا اجر وثواب ہے، ایک حدیث میں ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے محرم کے روزے ہیںاس حدیث میں ماہ محرم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ مہینہ نہایت اہم ہے اور اس مہینے میں کی جانے والی عبادتوں کا بڑا درجہ ہے، یوں بھی یہ مہینہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جن کو زمانہ جاہلیت میں بھی قابل احترام سمجھا جاتا تھا۔ مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ یوں تو یہ مہینہ ہی مبارک اور محترم ہے بالخصوص اس ماہ کی دسویں تاریخ کو بڑی فضیلت حاصل ہے، اسے عاشورہ محرم بھی کہتے ہیں، مورخین کے مطابق اس تاریخ کو دنیا میں اہم ترین واقعات پیش آئے، مثلاً حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ اسی دن قبول ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اپنے مسافروں سمیت حفاظت وسلامتی کے ساتھ اسی دن جودی پہاڑ پر ٹھہری، اسی دن بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات عطا کی گئی اور فرعون اپنے لاو ¿ لشکر سمیت دریائے نیل میں غرق کیا گیا، حضرت عائشہ الصدیقہؓ کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ قریش زمانہ ¿ جاہلیت میں یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بعثت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھتے تھے، جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو (حسب سابق) عاشورہ کا روزہ رکھا ، مگر رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد آپ نے اس کا اہتمام ترک کردیا اور فرمایا جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عاشورہ کا روزہ تو ضرور رکھو لیکن یہود کی مخالفت بھی کرو اور وہ اس طرح کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد والے دن کا روزہ بھی رکھ لیا کرو (یعنی ۹/۰۱ محرم کا روزہ رکھو یا ۰۱/ ۱۱ کا روزہ رکھو) فقہاءنے تصریح کی ہے کہ دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم یا گیارھویں کا روزہ بھی رکھنا چاہئے اگر کسی نے صرف دس تاریخ کا روزہ رکھا اور نویں یا گیارھویں تاریخ کا روزہ نہیں رکھا تو یہ روزہ مکروہ ہوگا ان دو روزوں کی بڑی فضیلت ہے ۔