مدارس کو ٹارگیٹ بنائے جانے کو کسی بھی طرح قبول نہیں کیاجائیگا: مولانا مغیثی، آل انڈیا ملی کونسل کے نمائندہ اجلاس میں مدارس کے متعلق یوپی حکومت کے فیصلہ پرکیا گیا تشویش کااظہار۔
سہارن پور: سمیر چودھری۔
علاقہ کے معروف تعلیمی ادارہ جامعہ رحمت گھگرولی میں آل انڈیا ملی کونسل کے شعبہ دینی تعلیم کے تحت ایک تعلیمی و فکری نمائندہ اجلاس منعقد ہوا ۔اس موقع موجودہ صورتحال میں ارباب مدارس کے درپیش مسائل کے سدباب کے سلسلہ میں غور فکر کیاگیا۔پروگرام میں سہارنپور، شاملی، مظفر نگر اضلاع سمیت اتراکھنڈ، ہریانہ کے مدارس و مکاتب اور اسکول و کالجز کے ذمہ داران، علماءو ائمہ مساجدو متولیان کے ساتھ علاقہ کے بہٹ، چلکانہ، چھٹمل پور، گنگوہ، سرساوہ، کیرانہ، کاندھلہ، سمیت 600سو نمائندہ ذمہ دار حضرات شریک رہے۔
اجلاس میں صوبائی حکومت کی جانب سے غیر منظور شدہ مدارس کا جاری سروے پر علماءو دانشورانِ نے اپنی تشویش کا اظہار کیا جسکی بابت اجلاس میں متفقہ طور پر قراردادیں منظور کی گئیں اور مدارس کے سروے سے متعلق معلوماتی اردو و ہندی فارم تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر کارکنان ملی کونسل کی جانب سے ذمہ داران مدارس کو مکمل رہنمائی کی یقین دہانی کرائی۔

مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی نے اپنے صدارتی خطاب میںمسلمانوں کو ذکر اللہ کی طرف توجہ دلائی نیز انھوں نے دوسرے پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے بڑے ادارے اور تنظیمیں ہمارے لئے رشد و ہدایت کا ذریعہ ہیں جنھوں نے کسی ایک موقع پربھی مسلمانوں کو بے سہارا نہیں چھوڑا اور آزمائش کے تمام مواقع پر مسلمانوں کی دینی شرعی اور سیاسی رہنماءکا شاندار فریضہ انجام دیا۔ہماری کوشش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ ملک کے تمام فرقے باہم متحد ہوکر ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، ندوة العلماءلکھنو، مسلم پرسنل لا بورڈ جمعیة علماءہند و آل انڈیا ملی کونسل اور انکی فعال قیادت مسلمانوں کے موجودہ حالات پر خاموش تماشائی نہیں بنے گیں، لہٰذاا اس حوالے سے ہم سب کا وہی موقف اور رخ ہونا چاہیے جو ان تمام ملی اداروں اور تنظیموں کا ہے۔
کنوینر اجلاس مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے متفقہ قراردادیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدارس اسلامیہ عربیہ جن کے قیام کا مقصد محض مسلمان بچوں و بچیوں کو اچھی تعلیم و تربیت فراہم کرنا ہے، انکو اسی نہج پر رہنے دیا جائے۔ یہ اجلاس دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، ندوة العلماءلکھنو،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ،جمیعة علماءہند و آل انڈیا ملی کونسل سمیت موقر مسلم تنظیموں اور قومی اداروں کے ذریعے مدارس دینیہ اسلامیہ کے متعلق متفقہ فیصلوں اور متحدہ لائحہ عمل کی بھرپور حمایت اور تائید کرتاہے۔ مدارس اسلامیہ کے ارباب حل و عقد یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ ہم صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں،اپنی اندرونی خامیوں کو دور کریں اور بہتر سے بہتر و شفاف نظام قوم و ملت کے سامنے عیاں کریں۔ مدارس اسلامیہ ہمیشہ ملک و قوم کی خدمت کے لئے غیر معمولی قربانیاں پیش کی ہیں لہٰذا انکے کردار پر سوال کھڑے کرنا اور انکو ٹارگیٹ بنانا کسی طرح بھی قابل قبول نھیں ہے۔ حکومتوں کو ہر ایسے کام سے باز رہنا چاہیے۔ جس سے ملک اور قوم میں انتشار و اضطراب کی کیفیت پیدا ہو۔
مذکورہ بالا قراردادوں کی مولانا مختار الحسن ندوی، مفتی واصل گنگوہی، مولانا عارف رشیدی جھاڑون، مولانا نواب کاندھلہ صوفی ساجد، مولانا اسجد مفتاحی، مفتی دلشاد، مولانا واصف رشیدی، چودھری ہاشم اور تمام مجمع نے ہاتھ اٹھاکر تائید و حمایت کی۔مولانا عبدالمالک مغیثی نے کہاکہ دارالعلوم دیوبند میں آئندہ 24 ستمبر کی میٹنگ میں جو طے کیا جائیگا ہم سب اس کا حصہ بنیں گے۔
خطاب کرنے والوں میں خصوصی طور پر مولانا آصف ندوی ،مولانا توقیر احمد قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند، مفتی صابر قاسمی،مفتی اسجد قاسمی فیضان رحیمی ،مولانا محمد اقبال فلاحی، مولانا واصل الحسینی، مولانا راشد علی پوری، مولانا طیب، مولانا عبد الخالق مغیثی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
اس موقع پر قاری فیضان سرور مہتمم ،مولانا مبشر شاہ مولانا مظفر، مولانا شاکر، مولانا الیاس مفتاحی، مولانا دلشاد مظاہری،قاری عالم گیر، مفتی حفظان، مولانا عبدالقادر مغیثی،حافظ نواب، مولانا وسیم، قاری ایوب، ڈاکٹر واصل، مولانا شرافت، مولانا سلمان مغیثی، مولانا واصف رشیدی، مفتی عامر، مولانا وسیم جھاڑون، قاری عبدالجبار، مولانا الطاف، قاری انعام، مولانا ذوالفان، مولانا نوشاد، قاری سہراب، مولانا احسان، قاری راشد ننولی،قاری جنید، مرسلین مرشد،قاری گلفام،مولانا سلمان مظاہری، حافظ مبارک، قاری مظفر، قاری جابر کے علاوہ جامعہ رحمت کے جملہ اساتذہ و طلبہ نے اجلاس کو کامیاب کرنے میں اپنا بھرپور تعاون پیش کیا۔جلسہ کی صدارت عاشق ملت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی سکریٹری کل ہند شعبہ دینی تعلیم ملی کونسل نے انجام دئے۔