مولانا سید ارشد مدنی کے بیان پر بولے مولانا مزمل قاسمی "جامعۃ الشیخ کے طلبہ کا کثیر تعداد میں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ ہوتا ہے۔"
دیوبند:  دارالعلوم دیوبند میں منعقد کُل رابطہ مدارس اسلامیہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے صدر المدرسین مولانا سید ارشد مدنی نے مدارس کے نظام ومعیار تعلیم و تربیت کو بہتر بنانے پر زور دیا، اس دوران انہوں نے کئی اداروں کی مثال دی، اسی کے ساتھ دیوبند کے مشہور تعلیمی ادارے جامعة الشیخ کے طلبہ کا گزشتہ سالوں میں کم تعداد میں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ ہونے ذکر کیا اور کہاکہ بڑے درجات کی تعلیم کو شامل کرنے کے سبب چھوٹی جماعتوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہیں اسلئے تمام مدارس میں دورہ حدیث تک تعلیم نہیں ہونی چاہئے۔

اس سلسلہ میں جامعة الشیخ حسین احمد مدنی ؒ کے مہتمم مولانا مزمل علی قاسمی نے میڈیا کو جاری اپنے تحریری بیان میں جامعة الشیخ کے حوالہ سے مولانا سید ارشد مدنی کے بیان پر افسوس ظاہر کیا اور کہاکہ جامعة الشیخ ایک معیاری تعلیمی ادارہ ہے، جس کے طلبہ ہر سال کثیر تعداد میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوتے ہیں، صرف اسی سال طلبہ کے داخلہ کی تعداد کم رہی ہے لیکن ابتدائی جماعتوں میں جہاں ملک بھر سے تیس چالیس طلبہ کا داخلہ ہواہے اس میں جامعة الشیخ کے گیارہ طلبہ شامل ہیں، مگر حضرت نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ مولانا مزمل قاسمی نے اپنے بیان میں کہاکہ کچھ ابتدائی درجات میں اگر معیار میں کمی آئی ہے اس کی وجہ وہ نہیں جو مولانامدنی فرمارہے ہیں بلکہ اس کی اصل وجہ ادارہ میں خاندانی افراد کی انٹری ہے جو پڑھاکر گھر چلے جاتے ہیں، امتحان کے زمانہ میں جو محنت ہونی چاہئے وہ نہیں کراتے ہیں۔ مولانا مزمل نے کہاکہ مدرسہ کی کمیٹی سے منظوری کے بعد ہی ادارہ میں دورہ حدیث اور دیگر جماعتوں کی تعلیم شروع کی گئی ہے اور الحمد اللہ ہر سال کثیر تعداد میں دارالعلوم دیوبند اور مظاہر علوم سہارنپور سمیت ملک کے نامور اداروں میں یہاں کے طلبہ کا داخلہ ہوتاہے، انہوں نے کہاکہ ادارہ کے معیار تعلیم کو مزید بہتر اور منظم بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ محنت کرینگے۔

سمیر چودھری۔