یوپی میں ہزاروں غیرتسلیم شدہ مدارس ، یوگی حکومت کی پہلی رپورٹ میں دعویٰ، دیوبند وسہارنپور میں ۲۵۰؍ غیر منظور شدہ مدارس کی نشاندہی، سروے میں توسیع۔
لکھنو؍دیوبند: سمیر چودھری۔
 ریاستی اقلیتی بہبود کے وزیر دھرم پال سنگھ نے کہا کہ اتر پردیش میں اب تک کل 6436 غیر تسلیم شدہ مدارس کی نشاندہی کی گئی ہے اور 5170 مدارس کا سروے مکمل ہو چکا ہے۔
اے این آئی سے بات کرتے ہوئے سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ریاست کے غیر تسلیم شدہ مدارس کے سروے کی مدت 20 اکتوبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ "سروے کا ڈیٹا 15 نومبر 2022 تک ضلع مجسٹریٹ کے ذریعہ حکومت کو دستیاب کرایا جائے گا۔ ، کچھ رپورٹس کی عدم وصولی کی وجہ سے آخری تاریخ بڑھا دی گئی ہے۔یہ رپورٹ یوپی کے اقلیتی بہبود کے وزیر دانش انصاری کے بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مدارس کے فزیکل سروے کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور اس کی رپورٹ جلد ہی حکومت کو بھیج دی جائے گی۔ سروے 30 اگست کے ایک حکم کے بعد شروع ہوا جو تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس (ڈی ایم) کو بھیجا گیا تھا۔اتر پردیش میں ایک اندازے کے مطابق 17000 تسلیم شدہ مدارس کام کر رہے ہیں، لیکن ریاست میں غیر تسلیم شدہ مدارس کے بارے میں کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہے۔یوپی مدرسہ بورڈ کا اندازہ ہے کہ ریاست بھر میں تقریباً 40000 سے 50000 مدارس ہیں۔غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے کرنے کے اتر پردیش حکومت کے فیصلے پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جمعیۃ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین جیسی مسلم تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی۔ اویسی نے اسے ’’منی این آر سی‘‘ قرار دیاتھامدرسہ کے عہدیدار وں کو ڈر ستارہا ہے کہ غیر تسلیم شدہ اور غیر قانونی کے بہانے ان کے اداروں کو بلڈوز کیا جاسکتا ہےہندوتوا بریگیڈ اور سوشل میڈیا کے پروپیگنڈے میں میں ٹی وی چینلوں پر مدارس کو جہاد پیدا کرنے والی فیکٹریوں کے طور پر بدنام کیا جاتا ہے ہے۔

دیوبند/سہارنپور:  ’’یوگی حکومت کی جانب سے جاری غیر سرکاری مدارس کے سروے میں ضلع سہارنپور میں اب تک 249 غیر تسلیم شدہ مدارس سامنے ہیں،جن کا کہیں بھی کسی سوسائٹی یا سرکاری ریکارڈ میں اندراج نہیں ہے،تاہنوز ضلع میں مدارس کے سروے کا عمل جاری ہے۔اس سلسلہ میں افسران نے بتایا کہ تحصیل بہٹ، نکوڑ، رام پور منیہاران، دیوبند اور سہارنپور شہر میں کثیر تعداد میں غیر تسلیم شدہ مدارس چل رہے ہیں۔ تاہم تحصیل بہٹ کا سروے ابھی تک مکمل نہیں ہواہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے گزشتہ ماہ غیر سرکاری مدارس کا سروے کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں،جس کو لیکر اہل مدارس شش و پنج میں مبتلاء تھے لیکن مرکزی دینی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند کی جانب سے سروے کی حمایت کااعلان کیا گیا تھا،جس کے بعد سے مدارس کے ذمہ داران سروے ٹیموں کا بھرپور تعاون کرہے ہیں۔واضح رہے کہ اس سلسلہ میں ڈی ایم اکھلیش سنگھ کی صدارت میں ایک سروے ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ اے ڈی ایم ای ڈاکٹر ارچنا دویدی کی نگرانی میں تشکیل دی گئی ،ٹیم میں ضلع تعلیمی آفیسر، ضلع اقلیتی افسر اور متعلقہ تحصیلوں کے ایس ڈی ایم شامل تھے۔ حکومت کے حکم کے بعد ضلع میں 10 ستمبر سے سروے کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔ اس دوران ضلع اقلیتی افسر بھرت لال گونڈ نے بتایا کہ سروے میں اب تک 249 غیر تسلیم شدہ مدارس سامنے ہیں،جن کا کسی بھی سوسائٹی،تنظیم یا سرکاری ریکارڈ کے تحت کہیں اندراج نہیں ہے۔ تاہم تحصیل بہٹ میں ابھی تک سروے کا کام جاری ہے۔ سروے کے دوران تعلیمی نصاب، اور فنڈنگ سمیت 12 نکات پر معلومات جمع کرکے تفصیلی رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ سروے کے دوران اب تک تحصیل نکوڑ 43، رام پور منیہاران میں 27، دیوبند میں 46، سہارنپور شہر 123 اور بہٹ میں 12 غیر تسلیم شدہ مدارس کی نشاندہی کی گئی ہے، ابھی تحصیل بہٹ میں بھی سروے کا کام جاری ہے‘‘۔