رابط مدارس کے اجلاس میں شرکت کے لئے ملک بھر سے پہنچے علماء، دارالعلوم دیوبند میں اندراج کا عمل جاری، ہزاروں مدارس کے ذمہ داران کرینگے اجلاس میں شرکت، جانیں کون سے ایشو آئینگے زیربحث۔
دیوبند: سمیر چودھری۔
دارالعلوم دےوبند میں آج منعقدہ ہونے والے کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ کے یک روزہ اجلاس کے لئے ملک بھر سے ذمہ داران مدارس دیوبند پہنچ گئے ہیں، اجلاس مےں ملک بھر کے علماءکے ساتھ ساتھ نےپال کے سیکڑوں مدارس کے ذمہ داران نے اندراج کراےا ۔آج صبح سے اعظمی منزل (شےخ الہند منزل )کے سامنے لگائے گئے عارضی کےمپوں مےں آنے والے مہمانوں نے اپنا اندراج کراےا اور ملک بھر سے آنے والے مدارس کے ذمہ داران کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے، 
واضح ہو اس اجلاس میں دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے محترم اراکین کے علاوہ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کی مجلس عمومی کے اراکین اور اہم مدعوئین خصوصی حضرات بھی شرکت فرمارہے ہیں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق 30 اکتوبر کو صبح نو بجے مسجد رشید میں ایک نشست پر مشتمل مجلس عمومی کا اجلاس منعقد ہوگا۔ ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر یہ اجلاس نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے تحت ہر تین سال میں مجلس عمومی کا اور ہر سال مجلس عاملہ کا اجلاس ہوتا ہے اور مدارس کو درپیش داخلی و خارجی مسائل پر اجتماعی غور و خوض کے بعد اس کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔خاص بات یہ ہے کہ حال میں اترپردیش کی یوگی حکومت نے مدارس کے سروے کے عمل کو مکمل کیا ہے اور میڈیا میں مدارس کے سلسلہ میں غیر منظور شدہ ہونے کی خبروںکو زور شور سے اٹھایاگیاہے،ان حالات میں ہورہے اس اجلاس پر سبھی کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔واضح رہے کہ 1995 میں دارالعلوم دیوبند نے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ قائم کیا اور مدارس عربیہ کے معیار تعلیم و تربیت کو بلند کرنے اور دینی مدارس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دو ہزار بڑے عربی مدارس کے نمائندگان کی تجویز سے دارالعلوم میں کل ہند رابطہ مدارس عربیہ کا مرکزی دفتر قائم کیا گیا۔ رابطہ مدارس عربیہ کے اغراض و مقاصد میں مدارس اسلامیہ عربیہ کے نظام تعلیم و تربیت کو بہتر بنانا ، اتحاد و ہم آہنگی کو فروغ دینا اور روابط کو مستحکم کرنا، مدارس کے تحفظ و ترقی کے لیے صحیح اور مو ¿ثر ذرائع اختیار کرنا ، بوقت ضرورت نصاب تعلیم میں کسی جزوی ترمیم و تسہیل پر غور کرنا، اسلامی تعلیم اور اس کے مراکز کے خلاف کی جانے والی کوششوں اور سازشوں پر نظر رکھنا، مسلم معاشرہ کی اصلاح اور شعائر اسلام کی حفاظت کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ سے اب تک ملک کے تقریباً تمام ہی صوبہ جات کے ساڑھے چار ہزار سے زائد مدارس مربوط ہو چکے ہیں۔ ہر صوبہ میں ایک صدر مقرر ہے۔ رابطہ کے امور کی انجام دہی کے لیے ایک 5 رکنی مجلس عاملہ ہے جو حضرات اراکین شوری دارالعلوم، اساتذہ علیا دارالعلوم اور ملک کے اہم علماءپر مشتمل ہے۔ رابطہ کی ایک مجلس عمومی ہے جو حضرات اراکین شوری، پندرہ اساتذہ ¿ دارالعلوم اور ہر مدرسہ کے ایک ایک نمائندہ پر مشتمل باڈی ہے۔ اب تک رابطہ مدارس عربیہ کی طرف سے ایسے دسیوں بڑے اجتماعات نیز مجلس عاملہ کے متعدد اجلاس منعقد ہوچکے ہیں۔ ان اجلاسوں میں نصاب تعلیم، طریقہ ¿ تدریس، نظام تربیت، مدارس کے مابین ربط کے استحکام ، تحفظ ختم نبوت، مدارس اسلامیہ کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے کی مذمت، اصلاح معاشرہ اور اسلام کی حفاظت میں مدارس کے کردار، تدریب المعلمین، اصلاح معاشرہ کی اہمیت، مدارس کے بارے میں حکومت کی منفی پالیسی اور مدارس اسلامیہ کے داخلی نظام اور عصری اداروں میں دینی تعلیم ، تحفظ سنت اور مسلک حق کے دفاع کے حوالے سے تقریباً پچاس تجاویز منظور ہوچکی ہیں۔ ان تجاویز سے مدارس کے نظام تعلیم و تربیت کو فعال و بہتر بنانے اور مسائل و مشکلات کے حل میں بڑی مدد ملی ہے۔ ان اجتماعات میں سب سے اہم فروری ۸۰۰۲ءکی دہشت گردی مخالف کانفرنس تھی جس میں ملک کی ہر جماعت اور مدرسہ کے نمائندوں سمیت بیس ہزار سے زائد علماءنے شرکت کی ۔ اس کانفرنس سے ملک و بیرون ملک میں نہایت مثبت پیغام پہنچا اور اس کے دور رس اثرات سامنے آئے۔