دیوبند: سمیر چودھری۔
عدالتیں مسلم پرسنل لاءمیں شریعت اپلیکیشن ایکٹ کے دائرے میں رہ کر فیصلے کی پابند ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیرمین فتویٰ آن لائن موبائل سروس دیوبند مفتی محمد ارشد فاروقی نے کیرالا ہائی کورٹ کے خلع کے ایک معاملے میں فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ 
انہوں نے کہا کہ خلع صرف بیوی کاحق اس طرح قرار دینا کہ بیوی یک طرفہ طورپر شوہرکی مرضی کے بغیر رشتہ نکاح ختم کرلے، مسلم پرسنل لاءبورڈ اس کی اجازت نہیں دیتا اوراس طرح کی تشریح خلع کی کرنے کا اختیار عدالتوں کو بنیادی دستور کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ اس بارے میں اقدام کے بارے میں سوچے گااور اس فیصلے کو لیگل کمیٹی کے ذریعے عدالت عالیہ میں چیلنج کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکاح خوش گوار زندگی گذارنے کا بہترین ذریعہ ہے اورناگوار حالات میں طلاق، خلع اور عدالتی فسخ بھی ایک موزوں حل ہے ۔ نکاح طلاق خلع اور فسخ کے قوانین وضابطے کی تشریح شریعتِ اسلامی نے جامع انداز میں پیش کی ہے جو مسلم پرسنل لاءکاحصہ ہے اور مسلم پرسنل لا ءکو شریعت اپلیکیشن ایکٹ 1937تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مفتی ارشد فاروقی نے کہا کہ عدالتوں کے فاضل جج اگر مسلم پرسنل لاءسے متعلق مقدمات میں شرعی ماہرین سے مشورہ کرلیاکریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ دوسری طرف مسلمانوں کو انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ عائلی نزاعی معاملات دارالقضاءکے ذریعے حل کریں تاکہ عدالتوں پر بوجھ نہ پڑے اورجلد فیصلے ہوں۔ اسی طرح انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے اپیل کی کہ وہ اصلاح معاشرہ تحریک کومزید طاقتور بنائے تاکہ مسلم معاشرہ صالح ونافع بن سکے اور دین و دستور کی حفاظت یقینی بن سکے۔