دیوبند: سمیر چودھری۔
مومن کانفرنس کے شہر صدر نسیم انصاری ایڈوکیٹ نے پریس کو جاری بیان میں کہاکہ گجرات کی بی جے پی حکومت کے ذریعہ 2002ءمیں سرکار کے حمایت یافتہ کچھ ظالموں کے ذریعہ بلقیس بانو کی تین سال کی بچی سمیت اس کے گھر کے سات افراد کو بے رحمی سے قتل کرنے اور اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کرنے والے عمر قید کے سزا یافتہ گیارہ مجرموں کی سزا معاف کرنے کا فیصلہ قانو ن میں دفعہ 161 کے خلاف ورزی اور آئین کی روح کے منافی ہے۔
نسیم انصاری نے کہاکہ آئین بنانے والوں کا اس دفعہ کے بنانے کا یہ مقصد نہیں رہاہو گا کہ جو شاطر مجرم عدالت سے نہ چھوٹ پائےںتوانہیں اس دفعہ کے تحت رہاکرا دیاجائے؟ بلکہ ان کا مقصد یہ رہاہوگا کہ کسی خاص صورتحال میں کسی کو معاف کیا جاسکتاہے۔نسیم انصاری نے کہاکہ یقینی طورپر بلقیس بانو کے مجرموں کو اس قانون کے تحت معاف کرکے اس دفعہ کا غلط استعمال ہی نہیں کیاگیا بلکہ آئین کی روح اور عدالت کے سزا کے احکامات کو درکنار کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ گجرات سرکار کے اس حکم کے بعد اس دفعہ کا مستقبل میں غلط استعمال ہونے کے امکان میں اضافہ ہوگیاہے، انہوں نے کہاکہ اب آئین میں گورنر کی دفعہ 161 اور صدر جمہوریہ کی دفعہ 72 میں مجرمان کو معاف کرنے کے حقوق کو بھی ختم کیاجانا چاہئے۔