دیوبند: سمیر چودھری۔
گزشتہ دو روزسے کہرے اور ٹھنڈی ہواﺅں نے لوگوں کو گھروں میں رہنے پرمجبور کردیا، بازاروں میں نکلے لوگ گرم کپڑوں میں پوری طرح پیک نظر آئے۔ درجہ حرارت کم سے کم 3ڈگری سیلیس اور زیادہ سے زیادہ 18ڈگری سیلیس رہا۔ یعنی کہ گزشتہ دو روز سے زبردست ٹھنڈ پڑ رہی ہے۔ 

آج صبح گھنا کہرارہا، کہرا بوندوں کی طرح پڑتا نظر آیا ، حالانکہ آج صبح 11بجے کے بعد کہرا آسمان سے چھٹ گیا اور دھوپ نکل آئی، مگر ٹھنڈی ہواﺅں کے سبب لوگ کانپتے ہوئے نظر آئے، لوگ سڑکوں کے کنارے لکڑی جلاکر اپنے آپ کو سینکتے نظر آئے، ایسے میں جن لوگوں کو ضرورت نہیں تھی تو وہ سردی کی وجہ سے گھروں سے نہیں نکلے۔ سردی کے سبب بازاروں میں بھی بھیڑ کم نظر آئی۔ ان دنوں پہاڑی علاقوں میں برف باری ہورہی ہے، ٹھنڈی ہواﺅں کی وجہ سے اس کااثر میدانی علاقوں میں بھی نظر آرہا ہے۔ سردی کی وجہ سے بازاروں ہی میں نہیں بلکہ گلی محلوں میں بھی سناٹا رہا، البتہ چائے کی دوکانوں پر بھیڑ نظر آئی۔ جسم کو کانپنے والی ٹھنڈ پڑنے سے لوگوں کا حال بے حال ہے ، گھنے کہرے کی وجہ سے گاڑیاں لائٹ جلاکر سڑکوں پر رینگتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ گزشتہ دو روز سے دھوپ نکلنے کے باوجود ٹھنڈ کا اثر رہا ، تیز ہواﺅں کے درمیان آسمان میں سورج نکلنے کے باوجود عام آدمی کے لئے پریشانیوں کا سبب بن رہا ہے، انتظامیہ نے ٹھنڈ سے بچنے کے لئے شہر میں تو انتظامات کئے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں ابھی تک کوئی انتظامات نہیں ہوئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے چھوٹے بچوں کے لئے بھی چھٹی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ٹھنڈ کی وجہ سے بیماریاںپھر سے سراٹھانے لگی ہےں ،بخار اور الرجی میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے اس کے علاوہ ٹھنڈ سے نزلہ زکام بھی پریشان کررہا ہے۔ 
ڈاکٹر دل کے مریض اور ٹی بی کے مریضوں کو احتیاط برتنے کی صلاح دے رہے ہیں۔ بزرگ ہی نہیں بلکہ نوجوان بھی ٹھنڈ کا شکار ہورہے ہیں،لگاتا بڑھ رہی ٹھنڈ بے سہارا لوگوں کے لئے پریشانیوں کا باعث بن رہی ہےں۔ سی ایم او ڈاکٹر سنجیو مانگلک کا کہنا ہے کہ سخت ٹھنڈ سے بچنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس موسم میں ٹھنڈااور باسی کھانانہ کھائیں،ابلے ہوئے پانی کا استعمال کریں، ہلکا گنگنا پانی صحت کے لئے بہتر ہے۔ ناک ، کان اور سر کو کھلا نہ چھوڑیں ،خاص طور پر چھوٹے بچوں کو ٹھنڈ سے بچانے کے لئے لاپرواہی نہ برتیں اور انہیں کھلے آسمان میں نہ جانے دیں۔