دیوبند: سمیر چودھری۔
دیوبند کوتوالی علاقہ کی رہنے والی درجہ 12کی طالبہ دو روز قبل گھر سے اسکول جاتے ہوئے مشتبہ حالت میں غائب ہوگئی ،طالبہ کے والد نے کسی نامعلوم کے خلاف اس کی نابالغ لڑکی کو بہلا پھسلاکر لے جانے کا الزام عائد کیا ۔ پولیس نے نامعلوم نوجوان کے خلاف مقدمہ قائم کرتے ہوئے تفتیش شروع کردی۔ 
موصولہ اطلاع کے مطابق دیوبند کی رہنے والی طالبہ سہارنپور اسٹیٹ ہائی وے پر واقع ایک انٹر کالج میں درجہ 12میں زیر تعلیم ہے ،طالبہ کے والد نے دیوبند کوتوالی میں تحریر دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی لڑکی گزشتہ 14دسمبر کو گھر سے کالج کے لئے نکلی تھی جس کے بعد وہ گھر واپس نہیں لوٹی، والد کے مطابق انہو ںنے رشتہ داری سمیت دیگر جگہوں پر معلوم کرنے کے بعد بھی اس کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ لڑکی کے والد نے کوتوالی میں نامعلوم نوجوان کے خلاف اس کی لڑکی کو بہلا پھسلاکر اغوا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کی لڑکی کوبرآمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 
اس سلسلہ میں تھانہ انچارج ایچ این سنگھ نے بتایا کہ والد کی تحریر پر نامعلوم نوجوان کے خلاف مختلف دفعات میں مقدمہ قائم کرلیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس لڑکی کی تلاش کررہی ہے جسے جلد ہی برآمد کرلیاجائے گا۔
دوسری جانب خاتون کو اکیلی دیکھ کر پڑوس میں رہنے والے شخص نے زبردستی گھر میں گھس کر عصمت دری کی کوشش کرنے کا معاملہ روشنی میں آیا ہے ، خاتون نے پولیس کو تحریر دے کر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دیوبند کوتوالی کے ایک گاﺅں کی رہنے والی خاتون نے پولیس کو دی گئی تحریر میں بتایا کہ اس کا شوہر باہر کام کرتا ہے ، گزشتہ کل وہ گھر میںاکیلی تھی اسی کا فائدہ اٹھاکر پڑوس میں رہنے والا ایک شخص زبردستی اس کے گھر میں گھس آیا اور عصمت دری کی کوشش کی ۔ خاتون کے مطابق شور مچانے پر آس پاس کے لوگوں کو موقع پر آتا دیکھ کر ملزم جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے فرار ہوگیا ۔ پولیس نے تحریر کی بنیاد پر شمیم نام کے شخص کے خلاف مختلف دفعات میں مقدمہ قائم کرلیا ہے ،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم فرار ہے ، اس کی تلاش میں مختلف مقامات پر دبش دی جارہی ہے ، جلد ہی اسے گرفتارکرکے جیل بھیج دیا جائے گا۔