دیوبند: سمیر چودھری۔
عالمی یوم حقوق اقلیت(18 دسمبر) کے موقع پر آل انڈیا ملی کونسل ضلع سہارنپور کے زیر اہتمام عالمی یوم حقوق اقلیت کے عنوان سے جامعہ رحمت گھگھرولی سہارنپور میں سکریٹری شعبہ دینی تعلیم آل انڈیا ملی کونسل مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی کی صدارت میں ایک پروگرام منعقد ہوا، جس میں اقلیتوں کے حوالہ سے قومی اور بین الاقوامی تناظر میں گفتگو ہوئی۔
پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر پرپنا اچاریہ شریک ہوئے، جبکہ نظامت کے فرائض قاری محمد جاوید کریمی نے انجام دئے۔اس موقع پرمہمان خصوصی پرپنا اچاریہ نے کہا کہ ملک کا آئین ہم سبھی حقوق فراہم کرتا ہے، ملک میں گزشتہ 70 سالوں سبھی مذاہب کے لوگ مل جل کر رہ رہے ہیں۔ آگے بھی سبھی مذاہب کے لوگ اپنے حقوق کے ساتھ مل جل کر رہیں ،اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے آپس میں متحد رہنا ضروری ہے اور ایک دوسرے کو حقوق سے واقف کرانا ضروری ہے۔
پروگرام کے کنوینر و سکریٹری شعبہ دینی تعلیم آل انڈیا ملی کونسل مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے اپنے خطاب میں اقلیتوںکے حقوق پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ملک زبان، ذات، برادری، رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر کسی طرح کی نابرابری اور تفریق کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہاں دستور میں سبھی کے بالخصوص اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت موجود ہے، ہمارے آئین نے اقلیتوں کو جو حقوق دیئے گئے ہیں وہ بے مثالی ہیں ،لیکن افسوس کی بات ہے کہ اقلیتوں تک وہ حقوق نہیں پہنچ پاتے۔انھوں نے اقلیتی برادریوں کو آئین میں دیئے گئے حقوق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی آئین کی دفعہ 25 کے تحت سبھی شہریوں کو مذہبی آزادی دی گئی ہے جبکہ دفعہ 30 کے تحت یہاں کی اقلیتوں کو اپنے انداز کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام و انصرام چلانے کے حق کی بھی پوری یقین دہانی کرائی گئی ہے، انھوں آگے کہا کہ حقوق کے تحفظ اور انکے حصول کے لئے اقلیتوں کے اندر تعلیم کے تئیں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اسکے لئے ہمیں ملکر کام کرنا ہوگا اور قوم کو اپنی نسل نو کے لئے سنجیدہ ہونا پڑیگا۔مولانا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ادارے اور صوبائی حکومتیں اس دن کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے ہیں،جبکہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔لیکن حکومت اور ریاست کی اقلیتی حقوق سے عدم توجہ کے باعث اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے واقعات روز بروز ہوتے نظر آرہے ہیں جو سبھی اقلیتی برادریوں کے لئے بے چینی کا باعث ہیں،ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم زمینی سطح پر اقلیتوں کو بیدارکرنے کرنے کے لئے اور مرکزی و صوبائی حکومتوں کو متوجہ کرنے کے لئے اقدامات کریں اور خصوصی طور قوم میں تعلیمی بیداری لائیں تاکہ وہ اپنے حقوق کو پہچانے اور انکے تحفظ کے لئے جدوجہد کریں۔ پروگرام کے اخیر میں سیکرٹری شعبہ دینی تعلیم ملی کونسل مولانا ڈاکٹر عبد المالک مغیثی نے دہلی میں ایس ایس پی کے عہدہ پر فائز ہوئے ایک طالب علم کے رشتے دار رضوان عرف لالہ کمبوہ مزرعہ کو تہنیت پیش کی اور اعزاز میں شال اوڑھاکر مبارک باد پیش کی۔
اس موقع پر مولانا عبد الخالق مغیثی، چودھری ہاشم، عبد القیوم پردھان، محمد رضوان ، ریاض حسن، طالب حسن ،قاری محمد مستقیم کریمی، مفتی محمد محموب قاسمی ، مولانا دلنواز عالم، قاری محمد شاہویز ،قاری ریاست کریمی، قاری محمد ثاقب جامعی، قاری اسجد جامعی، قاری دانش جامعی، قاری اجود جامعی،ڈاکٹر محمد ارشاد، قاری محمد وسیم رحمتی، قاری محمد مصروف رحمتی ،حافظ محمد ابرہیم رحمتی، ثمریاب وغیرہ کے ساتھ تمام طلباءو علاقہ کے لوگ موجودرہے۔