۔
دیوبند: سمیر چودھری۔
دیوبند معمر خاتون بمعروف ’خالد چندو‘ کا گزشتہ شام ضعیف العمری، کمزوری اور علالت کے باعث تقریباً 110 سال کی عمر میں اپنے آبائی مکان محلہ بیرون کوٹلہ میں انتقال ہوگیا، مرحومہ نہایت ملنسار، خوش اخلاق، دیندار اور دیوبند کی ہر دلعزیز شخصیت تھیں 
مرحومہ نے دیوبند میں برسہابرس تک خواتین کے درمیان دعوتی اور تبلیغی امور انجام دیئے اور اصلاح معاشرہ کیلئے طویل عرصہ تک جدوجہد کی، ان کے یہاں دعوت و تبلیغ سے متعلق پروگرام ہر ہفتہ منعقد ہوتے تھے، جسمیں عمررسیدہ خواتین کے علاوہ دیگر عورتیں اور بچیاں بھی نہایت ذوق و شوق سے شرکت کرتی تھیں، ان کی ان کوششوں سے دیوبند کی خواتین کے دینی رجحان میں کافی اضافہ ہواہے۔
مرحومہ کاتعلق آستانہ قاسمی خاص طور پر قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ سے والہانہ طورپر تھا، مرحومہ گزشتہ کافی سالوں سے صاحب فراش تھیں، ان کے انتقال پر دیوبند کی علمی و دینی و معرز شخصیات نے صدمہ کااظہار کرتے ہوئے پسماندگان سے اظہارتعزیت کیا اور مرحومہ کے لئے دعاءمغفرت کی۔ 
دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانامحمد سفیان قاسمی نے خالد چندو کے انتقال پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ مرحومہ نہایت نیک خصلت،ملنسار اور دیندار خاتون تھیں اور گونا گوں صفات کی مالک تھیں، انہوں نے خواتین کی اصلاح کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھیں، اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ 
علاوہ ازیں کل ہند رابطہ مساجد کے جنرل سکریٹری مولانا عبداللہ ابن القمر الحسینی، یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم،فائز سلیم صدیقی،جامع مسجد کے متولی حافظ انور عثمانی نے بھی مرحومہ کے سانحہ وفات پر صدمہ کاظہارکیا۔آج صبح ساڑھے دس بجے مرحومہ کی نماز جنازہ دارالعلوم دیوبند کے احاطہ مولسری میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اداکرائی بعدا زیں قبرستان قاسمی میں تدفین عمل میں آئی۔