دیوبند: سمیر چودھری۔
دس دن گزر جانے کے بعد بھی میونسپل بورڈ چیئرمین کے ذریعہ تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے چیک پر دستخط نہ کئے جانے کی مخالفت میں نگر پالیکاملازمین نے بدھ کے روز کام کاج بند کرکے میونسپل بورڈ احاطہ میں غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال شروع کر دی۔میونسپل بورڈ ملازمین کے ساتھ کچھ معاہدہ ملازمین بھی ہڑتال میں شامل ہوئے۔نگر وکاس کرمچار مہاسنَگھ اترپردیش سے منسلک میونسپلٹی ملازمین نے بدھ کو اپنے دفاتر پر تالے ڈال کر بلدیہ کے دفتر کے احاطے میں ہڑتال شروع کردی۔
ملازمین کا الزام ہے کہ حکومت کی جانب سے یکم دسمبر کو رقم کھاتے میں آنے کے بعد بھی تنخواہ اور پینشن ابھی تک التوا میں رکھی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے ملازمین اور پنشنرز کے سامنے معاشی بحران کھڑا ہوگیا اور انہیں گھریلو اخراجات پورے کرنے میں سخت پریشانی کا سامنا کرناپڑرہاہے۔تنظیم کے شہر صدر وکاس چودھری نے کہا کہ دو روز قبل ای او کو اس سلسلے میں میمورنڈم دے کر آگاہ کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود ملازمین کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ جس کی وجہ سے ملازمین ہڑتال کرنے کو مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ای او کو دیئے گئے پانچ نکاتی میمورنڈم میں بتایا گیا کہ میونسپل ملازمین کا پی ایف، معاہدہ ملازمین کی تنخواہ اور پنشنرز کے بقایا جات زیر التوا ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ ملازمین کا ستمبر اور اکتوبر 2022 کا پی ایف ابھی تک جمع ہونا باقی ہے۔جسے ملازمین کے پی ایف اکاو ¿نٹس میں جمع کرنے کا مطالبہ کیا۔ پانچ نکاتی مطالبات میں معاہدہ ملازمین کو تین ماہ کی بقایا تنخواہ، ملازمین کو ساتویں پے کمیشن کے بقایا جات، ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی سمیت مختلف مطالبات شامل ہیں۔ ساتھ ہی انتباہ دیا کہ اگر ان کے تمام مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ان کی ہڑتال جاری رہے گی۔ اس دوران وکاس چودھری، احمد غازی، رشی پال سنگھ، محمدتابش، محمد اکبر، محمد طارق، نیرج گوسوامی، محمد اعظم، پرکاش سنگھ، سندر لال اور اشوک کمارسمیت تنظیم سے جڑے دیگر ملازمین موجودرہے۔