دیوبند: سمیر چودھری۔
پولیس نے تین دن قبل کوتوالی علاقہ کے گاوں بھائیلہ میں نہر کی پٹری پر دو طالب علموں کو گولی مار کر زخمی کرنے والے دو ملزمان سمیت چار افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ تاہم پولیس کے مطابق گرفتار افراد میںو حملہ آور اور دو ان کے معاون ہیں۔ جبکہ دونوں حملہ آوروں کے نام زخمی فریق کی جانب سے دی گئی نامزدتحریر میں شامل نہیں ہیں۔
آج ایس پی سی ٹی ابھیمنیو مانگلک نے دیوبند کوتوالی کے بھائیلہ گاوں میںطلبہ پر فائرنگ کئے جانے کے واقعہ کا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی طالب علم کے والد پرمود کمار نے 17 دسمبر کو بھائیلہ گاو ¿ں میں طالب علم سدھارتھ اور آدتیہ پر فائرنگ کرنے کے لیے چھ نامزد افراد سمیت ایک نامعلوم کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ مطلوبہ اور وارنٹیوں کی گرفتاری کے لیے جاری مہم کے تحت پولیس نے آج صبح مظفرنگر کے تھانہ چرتھاول کے گاوں چوکھڑاکے باشندہ شوم عرف ویشواورا نچن عرف روی کانت عرف روی تیاگی ساکن کھیڑہ آسا تھانہ دیوبند کو گرفتار کیاہے، ملزم کے پاس سے 315 بور کا ایک طمنچہ اور کھوکھہ کارتوس برآمد کیاگیاہے۔پوچھ تاچھ کے دوران ملزمان نے ان کے معاون اورا نہیں پناہ دینے والے کنہیا اور ابھبشیک ساکن گاوں جڑودہ پانڈہ تھانہ بڑگاو ¿ں کے نام بتائے ،جنہیں پولیس نے گرفتار کرلیاہے۔پولیس نے چاروں کو گرفتار کرکے ان سے مزید پوچھ گچھ کرکے انہیں جیل بھیج دیا ۔پولیس نے بتایا کہ دیوبند تھانہ میںا نچن عرف روی کانت عرف روی تیاگی کے خلاف ماضی میں بھی ایک کیس درج ہے۔ 
واضح رہے تین دن قبل پیش آئے واقعہ کے بعد موقع پر پہنچے ایس ایس پی ڈاکٹر وپن تاڈ ا نے واقعہ کے انکشاف کے لئے ایس پی سٹی ابھیمنیو مانگلک کی قیادت میں چار ٹیمیں تشکیل دے کر ملزمان کو فوری طورپر گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا، اس معاملہ میںپولیس نے دو ملزمان اور ان کے دو معاونین کو گرفتار کیاہے، حالانکہ متاثرہ فریق کی جانب سے کوتوالی میں دی گئی نامزد تحریر میں ان کانام نہیں ہے۔ وہیں ایس پی سٹی نے بتایاکہ اس معاملہ میں مزید گرفتاریوں کے لئے پولیس کوشاں ہے۔