دیوبند: سمیر چودھری۔ 
پولیس اور بدمعاشوں کے مابین ہوئے تصادم میں گولی لگنے سے تھانہ ناگل علاقہ کے گاؤں سرسینا کا رہنے والا پچیس ہزار روپیہ کا انعامی بدمعاش پیر میں گولی لگنے سے زخمی ہوگیا،پولیس نے زخمی کو دیوبند کے سرکاری اسپتال میں داخل کرایا،جبکہ بدمعاش کا ایک ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاکر فرار ہوگیا،جس کی تلاش میں پولیس لگی ہوئی ہے۔ ملزم نے گزشتہ ماہ بھائیلہ انٹرکالج کے قریب نہر پردو کالج طلبہ پر بھی فائرنگ کی تھی۔
موصولہ تفصیل کے مطابق دیوبند پولیس گزشتہ شب دیوبند-برلہ روڈ پر گاؤں دھارو والا کے قریب چیکنگ کررہی تھی،اس دوران ایک بائک پر سوار دونوجوان وہاں سے گزرے جنہیں پولیس نے روکنے کی کوشش لیکن انہوں نے پولیس پر فائرنگ کردی، جس کے بعد پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بدمعاشوں پر فائرنگ کردی،جس میں تھانہ ناگل کے گاؤں سرسینا کا رہنے والا پچیس ہزار روپیہ کا ہسٹی شیٹر بدمعاش سکشم تیاگی پیر میں گولی لگنے سے زخمی ہوگیا،حالانکہ اس دوران اس کا ایک ساتھ اندھیرا کافائدہ اٹھاکر جنگلوں کے راستے فرار ہوگیا، جس کی تلاش میں کافی دیر پولیس لگی رہی ہے لیکن بدمعاش پولیس گرفت میں نہیں آیاہے، اس دوران پولیس نے زخمی بدمعاش سکشم کو سرکاری اسپتال میں داخل کرایا۔ پولیس نے بدمعاش کے پاس سے ایک طمنچہ اور بائک برآمد کی ہے۔ 

اس سلسلہ میں انسپکٹر ایچ این سنگھ نے بتایاکہ ملزمان کے خلاف مختلف تھانوں میں سات مقدمات درج ہیں۔ انکاؤنٹر میں پکڑے گئے زخمی بدمعاش سکشم تیاگی نے 17؍ دسمبر کو بھائیلہ گاؤں کے رہنے والے سدھارتھ اور ونے کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔ پولیس کافی عرصے سے ملزم کی تلاش میں تھی۔ کوتوالی انچارج ایچ این سنگھ نے بتایا کہ سکشم تیاگی عرف گھولو ناگل تھانے کا ہسٹری شیٹر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تصادم کے دوران اس کے قبضے سے ایک پستول کے ساتھ چار زندہ کارتوس اور ایک موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انکاؤنٹر کے دوران سکشم تیاگی کا ایک ساتھی اندھیرے میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، جس کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔