دیوبند: سمیر چودھری۔
یوپی اے ٹی ایس نے مشتبہ اظہر الدین کو پانچ دن پہلے سہارنپور سے گرفتار کیا تھا۔ اے ٹی ایس اظہر الدین کو لکھنؤ لے جا کر پوچھ گچھ کر رہی ہے، لیکن اس کے والد چراغ الدین اس حقیقت سے لاعلم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں پیر کو پولیس لائن بلایا گیا ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ زیادہ کچھ نہیں ملا ہے۔ پوچھ گچھ کے بعد بیٹے کو چھوڑ دیں گے۔
چراغ الدین نے کہا، ’میرا بچہ بہت سیدا سادہ ہے۔ ڈیڑھ سال سے اینڈرائیڈ فون استعمال کر رہا ہے۔ وہ جو کچھ کماتا ہے وہ سب ہمیں دیتا ہے۔ مجھ سے 10-20 روپے صرف ضرورت کے لیے مانگتا ہے۔ آج تک کوئی بڑی رقم نہیں مانگی۔ ہمیں حکومت اور عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔ سہارنپور کے رہنے والے اظہر الدین کو یوپی اے ٹی ایس نے 29 دسمبر 2022 کو گرفتار کیا تھا۔ میڈیا اہلکار جب اظہر الدین کے گھر پہنچے اور اس کے والد سے بیٹے کے بارے میں معلوم کیا تو ان چراغ الدین کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور کہا کہ میرا بیٹا بے قصور ہے۔ میرا بیٹا گرمیوں میں مچھر دانی بیچتا ہے اور اب ہیلمٹ بیچ رہا ہے۔ وہ صبح نکلتا ہے اور شام کو واپس آتا ہے۔ وہ پورے دن کی کمائی ہمیں لاکر دیتا ہے۔ہم سے صرف ضرورت کے لیے پیسے مانگتے ہیں۔ اگر وہ کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک ہوتا تو ہمارا بڑا گھر ہوتا ؟ اگر کوئی غلطی ہو گئی تو حکومت اسے بچہ سمجھ کر معاف کردے۔ ہمیں حکومت اور عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔ ہمارے ساتھ کچھ برا نہیں ہوگا۔ پتہ نہیں میرے بیٹے کا نام کس نے لیا؟ہمیں تین بار پولیس لائن میں بلایا گیا۔ انہوں نے ہمیں یہ بھی بتایا گیاکہ آپ کے بیٹے کے خلاف کچھ نہیں ملا۔ چھوڑ دیں گے۔ سپردگی نامہ پر دستخط بھی کرائے گئے اور میرے اور میرے بیٹوں کے آدھار کارڈ بھی لے لیے گئے۔ آج بھی پولیس لائن میں بلایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں نہیں معلوم ہمارا بیٹا سہارنپور میں ہے یا لکھنؤ میں ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اظہر الدین نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ آج تک کسی سے ایسی بات نہیں سنی گئی۔ 
مجموعی طور پر اہل خانہ اظہر الدین کو بے قصور قرار دے رہے ہیں۔پی اے ٹی ایس نے اظہر الدین کو سہارنپور سے 26 ستمبر کو گرفتار کیے گئے دہشت گرد تنظیموں سے تعلق کے الزام میں گرفتار مشتبہ لقمان کے معاون ہونے کے الزام میں گرفتار کیاہے،اس معاملہ میں اب تک دس گرفتاریاں اے ٹی ایس کے ذریعہ کی جاچکی ہیں،اظہرالدین کے قبضے سے ایک موبائل فون اور ایک ایئرٹیل و جیو کمپنی کی سم ملی ہے۔