سہارنپور:  پیر طریقت اور رہبر شریعت و عارف باللہ خلیفہ شاہ عبدالقادر رائے پوری (رحمہ اللہ علیہ) علامہ مفتی عبد الغنی ازہری الشاشی بانی و مہتمم دارالعلوم نظامیہ مگن پورہ بادشاہی باغ آج اس عالم ناسوت سے راہی عالم بقاء ہوۓ ۔انــا لله وانـا اليــه راجعون۔
علامہ مرحوم کے اس حادثہ فاجعہ پر تعزیتی پیغام میں عاشق ملت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی قومی صدر آل انڈیا ملی کونسل نے نہایت ہی دکھ و رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علامہ مرحوم نہایت متقی، پرہیز گار، ملنساراورخدا رسیدہ بزرگ تھے، آپ ملت ہند کے قابل فخر سپوت تھے جن کے تقدس اور تقوی کی عالم میں شہرت اور مقبولیت تھی، بچپن ہی سے نہایت ذہین وفطین، کتب بینی اورمحنت کے عادی تھے اپنی ذہانت وذکاوت کی وجہ سے مخلتف علوم وفنون اورخاص طورپر فقہ اورحدیث میں ممتاز جانے جاتے تھے، مسلسل علم حدیث کی خدمت کرتے رہے، آپ کے مواعظ کے مرکزی موضوعات اتباع سنت، اصلاح معاشرت، درستگی اخلاق واعمال، تزکیہ واحسان، اہل تقوی کی صحبت تعلیم دین کی اہمیت تھے۔ اللہ رب العزت علامہ علیہ الرحمہ کو جنت الفردس میں اعلی و بالا مقام عطافرماۓ، ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطافرماۓ، ان کے دعوتی، اصلاحی کوششوں اور روحانی سلسلہ کو جاودانی عطا فرماۓ۔ آمین۔

مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی مہتمم جامعہ رحمت گھگھرولی نے اس المناک حادثہ پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے مشفق و مربی علامہ مفتی عبدالغنی ازہری الشاشی قدس سرہ کو بہت طویل زمانہ عنایت فرمایا، یقینا آپ کا وجود بہت بڑی نعمت تھا، جو اللہ نے واپس لے لی اور ہم سے قدر نہ ہوسکی، اللہ اس ناقدری کو معاف فرمائے، سیدی حضرت علامہ علیہ الرحمہ کو اللہ نے ایسی تواضع وانکساری عطا فرمائی تھی کہ بچپن ہی سے اپنے اساتذہ کرام میں منظور نظر رہے اور سلوک کی راہ میں شیخ عبدالقادر رائے پوری رحمہ اللہ علیہ کی نظروں میں ایسے محبوب ہو گئے جس کی حد نہیں،
دارالعلوم سے فراغت کے بعد آپ جامعہ ازہر مصر تشریف لے گئے اور پروفیسر کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں ایک عرصہ دراز تک احمد العلوم خانپور میں حدیث شریف کی خدمت انجام دی، آپ دارالعلوم نظامیہ مگن پورہ بادشاہی باغ کے بانی و مہتمم بھی تھے اور تاحیات وہیں کے ہوکے رہے۔
شوق وخوف، اللہ کے لیے محبت ونفرت، تواضع و کسر نفسی خلق خدا پر شفقت، اخلاص، ریاء سے دوری، سنت نبوی کی محبت، یہ تمام کیفیات اور باطنی اعمال ہیں آپکے اندر رچے بسے تھے۔ ان کے وجود کی روشنی نے دور دراز کے علاقوں کو روشن اور درخشاں کر دیا، ان کی قیامگاہ طالبین وسالکین کا مرجع وماوی بنی رہتی تھی، آپ ایک ایسی ممتاز اور نہایت جلیل القدر شخصیت تھی جن کی طرف دل کھنچتا تھا اور جن کو دیکھنے سے آنکھیں سیر نہیں ہوتی تھیں۔
یہ ناچیز بھی حضرت مرحوم کے سامنے بارہا شرف حاضری سے مشرف ہوکر آپ کی نشست و برخاست، کردار و گفتار اور ملفوظات سے شاگردوں جیسا مستفید و متعارف ہوتا رہا، آپ جامعہ رحمت گھگھرولی بارہا تشریف لائے اور رحمت کانفرنس کی زینت بھی بنے اور اس ناچیز و ادارے کے حق میں ہمیشہ دعا فرماتے۔
قربِ قیامت کی علامت ہے کہ علماء کرام، مشائخ عظام اور اہل اللہ رحلت فرمانے لگیں گے۔ بس اللہ اپنا فضل و کرم فرمائے۔ انتقال کی خبر پاتے ہی جامعہ رحمت گھگھرولی میں ایک تعزیتی نشست رکھی گئی جس میں حضرت علامہ علیہ الرحمہ کے لئے دعا مغفرت اور ایصال ثواب کیا گیا۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ پاک اپنے اس محبوب بندے کے درجات کو بلند فرمائے، ان کی خدماتِ جلیلہ کو قبول فرمائے، ان کی قبر کو جنت کا باغ بنائے اور مجھ سمیت حضرت کے تمام عقیدت مندوں کو صبر جمیل کے ساتھ ساتھ صحیح معنوں میں متبع سنت بنائے، اور زندگی بھر قرآن اور سنت کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں آپ کے پند و نصائح اور مواعظ حسنہ وارشادات کو حرز جان بنانے کی توفیق بخشے کہ اب ہمارے درمیان یہی شمع ہدایت و مینارۂ نور ہیں۔ آمین یا رب العالمین۔

سمیر چودھری۔