دیوبند: سمیر چودھری۔
 دیوبند کے قریبی گائوں تھیتکی میں گزشتہ 16؍ماہ قبل گئو کشی کے ایک معاملہ میں شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے کسان ذیشان حیدرکی پولیس انکائونٹر میں ہوئی موت کے معاملہ میں عدالت نے تین داروغہ سمیت 12؍ پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل اور سازش کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے،اتوار کو دیوبند پولیس نے اس معاملہ میں مقدمہ قائم کرلیاہے، جس کے بعد پولیس محکمہ میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ دیوبند پولیس نے عدالت کے حکم پر مختلف سنگین دفعات میں سبھی 12پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ قائم کرکے تفتیش شروع کردی ہے، یہ مقدمہ افروز زوجہ ذیشان مرحوم کی درخواست پر قائم کیا گیا ہے۔ 
تفصیل کے مطابق تھیتکی گائوں کے رہنے والے ذیشان کو 4-5ستمبر 2021کی رات پولیس اپنے ساتھ لے گئی اور اگلے روز ذیشان کی خون سے لت پت لاش سہارنپور سرکاری اسپتال میں اہل خانہ کو ملی، ذیشان کی بیوی افروز نے اس معاملہ میں پولیس اہلکاروں پر فرضی انکائونٹر کا الزام عائد کیا تھا۔ افروز نے صدر جمہوریہ ہند، وزیر اعظم ہند ، مرکزی وزیر داخلہ ، حقوق انسانی کمیشن سے لے کر اقلیتی کمیشن تک انصاف کی فریاد کی ۔ اب ہائی کورٹ نے جلد اس معاملہ کو حل کرنے کے احکامات دیئے تھے جس پر سی جے ایم انل کمار کی عدالت نے ہفتہ کو تھانہ انچارج دیوبند کو 24گھنٹے کے اندر مذکورہ 12پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے احکامات دیئے ہیں ۔ ذیشان کی بیوی افروز کے وکیل چودھری نثار نے بتایا کہ ذیشان پیشہ سے کسان تھا ، اس کے پاس 35سے 40بیگہہ زمین تھی ۔ ضلع مجسٹریٹ سے حاصل شدہ لائسنس پر اس نے رائفل اور بندوق لے رکھی تھی ۔ 4مئی 2021تک ذیشان کا کوئی جرائم کا ریکارڈ نہیں تھا اور عدالت میں بھی اس کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا ۔اس رات بارہ بجے ذیشان کو کچھ پولیس اہلکار اپنے ساتھ لے گئے ، یہ بات ذیشان نے بذریعہ فون اپنی بیوی افروز کو بتائی تھی ۔ کچھ وقت انتظار کرنے کے بعد افروز نے جب ذیشان کو فون کیا تو وہ بند ملا ، صبح 6بجے سب انسپکٹر اصغر علی اور پولیس اہلکار افضال نے افروز کے چچا زاد جیٹھ مہدی حسن کو ذیشان کے پیر میں گولی لگنے کی بات کہی جس کے بعد مہدی حسن ، عیسیٰ رضا اور گلبہار پردھان پولیس کے ساتھ دیوبند سرکاری اسپتال پہنچے مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ذیشان کو سرکاری اسپتال سہارنپور ریفر کردیا گیا ہے۔ سہارنپور پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ذیشان کی لاش اسپتال میں رکھی ہے ، اس معاملہ میں افروز کی درخواست پر پولیس سے رپورٹ مانگی گئی تو رپورٹ میں عدالت کو کئی خامیاں نظر آئیں ، پولیس ذیشان کو اس کے ہی ساتھیوں کی گولی سے زخمی ہونے اور زیادہ خون بہنے کی وجہ سے موت ہونے کا سبب بتارہی ہے۔ یہی نہیں ذیشان کے خلاف 4مقدمات بھی درج ہونا بتایا ، حالانکہ پولیس نے یہ قبول کیا کہ ذیشان کو ہتھیار کا لائسنس دیوبند تھانہ کی تصدیق پر ہی جاری کیا گیا تھا ، اس وقت تک ذیشان کا کوئی جرائم ریکارڈ نہیں تھا۔ عدالت اس بات کو لے کر حیرت زدہ تھی کہ ذیشان کی موت کے دن ہی اس پر مقدمات درج ہوئے۔ اس سے پہلے کوئی مقدمہ درج نہیں تھا۔ عدالت نے جن پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے احکامات دیئے ہیں ان میں دیوبند تھانہ کے سب انسپکٹر اوم ویر سنگھ، یشپال سنگھ، اصغر علی، ہیڈ کانسٹبل سکھ پال سنگھ ، کنور بھرت، پرمود کمار، وپن کمار، راج بیر ، دیویندر نیتویادو، برجیش کمار، ڈرائیور انکت کمار اور نامعلوم مخبر کے خلاف گھر سے بلاکر قتل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ پولیس نے سبھی 12پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کی دفعات میں مقدمہ قائم کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔