Latest News

دیوبند کے قدیم کانگریسی نیتا مظاہرحسن اور سینئر صحافی عارف عثمانی کی والدہ کا انتقال۔

دیوبند: سمیر چودھری۔
سینئر صحافی عارف عثمانی اور آل انڈیا ریڈیو اردو سروس کے نیوز ایڈیٹر شمیم عثمانی کی والدہ محترمہ رابعہ خاتون کا طویل علالت کے بعد تقریباً 82سال کی عمر میں اپنی رہائش گاہ گدی واڑہ دیوبند میں انتقال ہوگیا،مرحومہ نہایت سادہ مزاج، ملنسار اور باغ وبہار کی شخصیت کی مالکہ تھیں۔ مرحومہ نہایت نیک ، متقی ، عابدہ، زاہدہ ، خوش اخلاق ، مہمان نواز خاتون تھیں، صبر ورضا کا پیکر تھی۔ خاموش مزاجی کے ساتھ بچوں کی پرورش ونگہداشت مرحومہ نے جس انداز سے کی وہ قابل مثال ہیں۔ان کے انتقال پر سرکردہ شخصیات نے گہرے رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے پسماندگان سے تعزیت مسنونہ پیش کی۔ مرحومہ کی نماز جنازہ آج صبح 10بجے یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری مولانا ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے احاطہ مولسری میں ادا کرائی اور تدفین قبرستان قاسمی میں عمل میں آئی۔ نماز جنازہ میں دارالعلوم وقف کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی، سابق اسمبلی رکن معاویہ علی، مسلم پرسنل لاءبورڈ کے رکن مولانا ندیم الواجدی، مسلم فنڈ دیوبند کے منیجر سہیل صدیقی، جامعہ طبیہ کے ڈاکٹر اختر سعید، صحافی اشرف عثمانی، مولانا حسین احمد مدنی، قاری اسجد، مفتی عظیم، دہلی کے مشہور تاجر نعیم احمد، مفتی اخیار الٰہی، مفتی احمد سعد، مولانا کمال اصغر، دلشاد احمد ایڈوکیٹ، شمیم مرتضیٰ فاروقی، مولانا دلشاد احمدقاسمی، مولانا موسیٰ قاسمی، کلیم تیاگی، فائز سلیم صدیقی، ربیع ہاشمی، ڈاکٹر عاطف ہاشمی، ڈاکٹر شمیم دیوبندی، ڈاکٹر ایس اے عزیز وغیرہ موجود رہے۔
ادھر سینئر کانگریسی لیڈر نیتا مظاہر حسن کا گزشتہ شب مختصر علالت کے بعد تقریباً 78برس کی عمر میں انتقال ہوگیا ۔ ان کے انتقال سے عزیز واقارب کے علاوہ اور سیاسی لیڈران میں غم کی لہر دوڑگئی اور لوگوں نے ان کی رہائش گاہ پر پہنچ کر اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ۔ نیتا مظاہر حسن مرحوم نہایت خوش اخلاق ، ملنسار اور دیوبند کی ہردلعزیز شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ہمیشہ کانگریس پارٹی سے وابستہ رہے ، انہوں نے کانگریس پارٹی کی پوری زندگی خدمت کی ۔ ان کا انتقال کانگریس پارٹی کے لئے ایک خسارہ قرار دیا جارہا ہے، وہیں گاندھی خاندان کے قریبی تھے۔دیوبند کی سیاسی وسماجی شخصیات نے کہاکہ نیتا مظاہر حسن کی سیاسی وسماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،مرحوم کی نماز جنازہ جمعرات کے روز بعد نماز ظہر احاطہ مولسری میں ادا کرائی گئی اور شاہ ولایت قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ پسماندگان میں بیوہ سمیت ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر